اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 276 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 276

کے ہوتے ہوئے ذوی الارحام محروم ہوتے ہیں۔اس لئے خنثی کو عورت یعنی چا کی بیٹی تصور کریں گے لہذا وہ محروم رہے گی اور تمام جائداد کا مالک چا کا بیٹا ہو گا۔نوٹ : امام شافعی کے نزدیک خلفی کا حکم وہی ہے جو امام ابو حنیفہ کے نزدیک ہے۔صرف اتنا فرق ہے کہ امام شافعی کی رائے یہ ہے کہ ابتدائی تقسیم تو اس طرح کی جائے کہ خلفی کو بڑا حصہ ملے، لیکن عملاً اسے صرف چھوٹا حصہ دیا جائے یعنی جو نسبتا کم ہو۔بقیہ حصہ یعنی بڑے اور چھوٹے حصہ میں جو فرق ہے اسے امانت رکھا جائے اور خنثی کی حالت میں کسی تبدیلی کا انتظار کیا جائے ممکن ہے بڑا ہو کر اس میں مرد یا عورت کی کوئی نمایاں علامات ظاہر ہو جائے۔ایسی علامت ظاہر ہونے کے بعد جو بھی صورت ہو اگر اس کے مطابق خنثی کا حصہ پورا کرنے کے بعد زیر امانت حصہ میں سے کچھ باقی بچتا ہو تو وہ دوسرے وارثوں میں اُن کے حصوں کے تناسب سے تقسیم کر دیا جائے اور اگر کوئی فیصلہ کن علامت ظاہر نہ ہو تو پھر مصالحت کی صورت یعنی رضا مندی سے جیسے مناسب سمجھا جائے۔عمل کر لیا جائے۔اس مصالحت کے لئے خنٹی کا بالغ ہونا ضروری نہیں۔