اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 251 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 251

۲۵۱ ۱/۳ = بیٹی کا حصہ بہن محروم رہے گی کیونکہ اس کے بھائی کی وفات کے وقت بھائی کا بیٹا موجود تھا۔- متوفی بیٹے کا قابل تقسیم ترکہ ۲/۳ ہے اور اس کی وارث صرف اس کی بہن ہے اس لئے اس کا (۲/۳) حصہ اس کی بہن ( یعنی میت کی بیٹی کومل جائے گا۔اس طرح بیٹی کا حصہ + + F = ا ہوگا یعنی وہ کل جائداد کی مالک ہوگی اور ( میت کی ) بہن محروم رہے گی۔اس لئے یاد رکھیئے کہ ایک بار ہی براہ راست تر کہ اسی وقت تقسیم ہو سکتا ہے جب کسی وارث کے فوت ہو جانے کے بعد ورثاء اور ان کے حصوں میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہوتی ہو۔اگر کوئی تبدیلی واقع ہوتی ہو تو ہر میت کا حال علیحدہ علیحدہ لکھیئے اور ان کے حصے یکے بعد دیگرے تقسیم کیجئے۔مثال نمبر ۱۲: ایک میت نے ایک بیٹا اپنی موجودہ بیوی کے بطن سے اور دو بیٹے اور ایک بیٹی سابقہ بیوی کے بطن سے وارث چھوڑے قبل تقسیم ترکہ سابقہ زوجہ کا ایک بیٹا فوت ہو گیا ما بعد اس کا دوسرا بیٹا بھی فوت ہو گیا اور اس نے تین بیٹیاں پیچھے وارث چھوڑیں۔پہلی میت کے ترکہ میں ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔ابتدائی تقسیم زوجہ کا حصہ : باقی V/A = 1 = - یہ ۷/۸ حصہ تین بیٹوں اور ایک بیٹی میں ۲: اسے تقسیم ہو گا۔اس لئے ہر بیٹے کا حصہ = = x = = = = اور ہر بیٹی کا حصہ = = x = = 1 سابقہ زوجہ کے پہلے متوفی بیٹے کا قابل تقسیم حصہ ۲/۸ ہے اور اس کے وارث اس کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہن ہیں۔پہلے متوفی کی زوجہ یعنی اس متوفی بیٹے کی سوتیلی ماں محروم رہے گی۔اسی طرح اس کا علاقی بھائی بھی محروم رہے گا کیونکہ حقیقی بھائی موجود ہے۔= حقیقی بھائی کا حصہ اور حقیقی بہن کا حصہ = ۱۲ لہذا اس وقت تک سابقہ زوجہ کے بطن سے پہلے متوفی کے لڑکے کا حصہ