اسلام کا وراثتی نظام — Page 234
۲۳۴ حصے دیتے وقت اسے کالعدم سمجھا جائے گا۔مثال نمبر ۲: ایک میت نے خاوند، والدہ اور چچا وارث چھوڑے۔اس نے مرتے وقت اپنے حق مہر بذمہ خاوند کے علاوہ ۲۰۰۰ روپے چھوڑے۔خاوند نے تقسیم ترکہ کے وقت یہ کہہ کر کہ میں اپنا حق (حصہ ( حق مہر کے بدلہ چھوڑتا ہوں باقی جائداد سے دستبرداری اختیار کر لی 1/F ۱/۳ += = ( + ) - 1 = والدہ اور چچا کے حصے بتاؤ۔خاوند کا مقررہ حصہ والدہ کا مقررہ حصہ چچا کا مقررہ حصہ اب باقی جائداد کی تقسیم کے وقت خاوند کو چھوڑ دیا جائے اور باقی ترکہ ۶۰۰۰ ۲۰۰۰ روپے والده اور چچا میں + : 4 یعنی ۲: ا سے تقسیم کر دیا جائے گا۔اس لئے والدہ کا حصہ چا کا حصہ = = ۶۰۰۰ × ۲/۳ = ۴۰۰۰ روپے ۶۰۰۰ × ۱/۳ = ۲۰۰۰ روپے نوٹ : اگر پہلے ہی خاوند کو ترکہ سے نکال دیا جاتا تو تقسیم بالکل الٹ ہو جاتی ہے یعنی والدہ کا حصہ چا کا حصہ 1/M = = باقی جائداد = ۱ - ۱/۳ - ۲/۳ اس صورت میں ۶۰۰۰ روپے والدہ اور چچا میں ۲:۱ سے تقسیم ہوں گے اور والدہ کو ۲۰۰۰ روپے اور چا کو ۴۰۰۰ روپے ملیں گے جو کہ صحیح نہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ شروع میں حصے متعین کرتے وقت تخارج اختیار کرنے والے وارث کو شامل رکھا جائے پھر باقی جائداد کی تقسیم کے وقت اسے نکال دیا جائے۔مثال نمبر ۳ : ایک میت نے بیوی، والدہ اور ایک حقیقی بھتیجا چھوڑے۔متوفی کی جائداد کچھ نقدی اور کچھ اراضی پر مشتمل ہے جس کی مجموعی مالیت ۱۲۰۰۰ روپے ہے بیوی اس بات پر راضی ہوگئی کہ اگر اس کو نقد رقم سے ۲۰۰۰ روپیہ دے دیا جائے تو اسے باقی ترکہ سے کوئی