اسلام کا وراثتی نظام — Page 138
۱۳۸ درجہ سوم کے عصبات بھائی ، بھائی کا بیٹا ( بھتیجا ) بھائی کا پوتا ( بھتیجا کا بیٹا ) بھائی کا پڑپوتا ( بھتیجا کا پوتا ) وغیرہ جب درجہ اول اور درجہ دوم کے عصبات میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو پھر ذوی الفروض سے بچا ہوا ( یا ذوی الفروض کے موجود نہ ہونے کی صورت میں تمام تر کہ ) درجہ سوم کا عصبہ یا عصبات حاصل کریں گے۔اس درجہ میں بھی سب سے پہلے وہ عصبہ یا عصبات حقدار ہوں گے جو قرابت کے لحاظ سے دوسروں کی نسبت میت کے زیادہ نزدیک ہوں لیکن درجہ اول یا دوم میں سے کوئی بھی عصبہ موجود ہو تو درجہ سوم کے عصبات سب محروم رہتے ہیں۔اب ان درجہ سوم کے عصبات کے احکام قدرے تفصیل سے درج کئے جاتے ہیں۔عصبہ درجہ سوم نمبر ا حقیقی بھائی: جب درجہ اول اور درجہ دوم میں سے کوئی بھی عصبہ موجود نہ ہو تو ذوی الفروض کو حصے دینے کے بعد باقی ماندہ ترکہ حقیقی بھائی کو جو میت کے باپ کا جز ہے بطور عصبہ مل جاتا ہے اگر کوئی بھی ذوی الفروض موجود نہ ہو تو تمام تر کہ حقیقی بھائی حاصل کر لیتا ہے۔اگر یہ حقیقی بھائی دو یا دو سے زائد ہوں تو باقی ماندہ ترکہ ان بھائیوں میں برابر برابر تقسیم ہو گا۔اگر حقیقی بھائی یا بھائیوں کے ساتھ حقیقی بہن یا بہنیں بھی موجود ہوں تو یہ حقیقی بہنیں اپنے حقیقی بھائیوں کی وجہ سے عصبہ بالغیر بن جائیں گی اور باقی ماندہ ترکہ میں حصہ کی حقدار ہوں گی اور تقسیم للذكر مثل حظ الانثیین کے اصول کے تحت ہوگی۔جب حقیقی بھائی موجود ہو۔تو علاتی بھائی محروم ہوں گے کیونکہ حقیقی بھائیوں کی قوت قرابت علاقی بھائیوں کی نسبت زیادہ ہے۔مثال نمبر ۹: ایک میت نے والدہ ، زوجہ، دو حقیقی بھائی، تین حقیقی بہنیں اور دو علاتی بھائی اپنے وارث چھوڑے ترکہ میں ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔1/4 = والدہ کا حصہ