اسلام کا وراثتی نظام — Page 117
جب چھ کے چھ ذوی الفروض ہوں تو ایک ہی گروپ بن سکتا ہے۔نمبر شمار ۶۳ حصہ کیفیت ناممکن شمن وسدس وربع وثلث ونصف وثلثان اس طرح بھی کل تعداد تریسٹھ ہی بنتی ہے۔ان ۶۳ ممکنات میں ۲۶ ناممکن ہیں کیونکہ ایسا مسئلہ پیش ہی نہیں آ سکتا مثلاً دو دو کی صورت نمبر ۸ ملاحظہ کیجئے جو کہ ثمن وربع ہے یعنی ۱/۸ اور ۱/۴ اب ۱/۸ زوجہ کا حصہ ہے جبکہ اولاد ہو۔۱/۴ حصہ ہے جب کہ اولاد نہ ہو۔اب دونوں حصے ایک ہی عورت کے لئے ( زوجہ ) کے لئے نہیں ہو سکتے۔نیز ایک آدمی کی دو ایسی بیویاں بھی نہیں ہوسکتیں کہ ایک کا حصہ ۱/۴ ہو اور ایک کا ۱/۸۔اس لئے یہ ناممکن ہے۔اسی طرح سے چار چار کے گروپ میں نمبر ۵۶ کو دیکھئے جو کہ ربع ونصف و ثلث و ثلثان ہے ( یعنی ۱/۴، ۱/۲، ۱/۳ ۲/۳) اس میں ۱/۳ ۱/۲ والدہ کا حصہ ہے جب کہ اولاد نہ ہو ساتھ ہی ۲/۳ بیٹیوں کا حصہ ہے جب کہ دو سے زائد ہوں یا گر ۲/۳ ہمشیرگان کا حصہ ہو تو والدہ کا ۱/۳ نہیں ہوسکتا۔بہر حال اس میں ہر جہت سے تضاد پایا جاتا ہے۔اس لئے گو حسابی طریق سے ہم ایسے گروپ بنا سکتے ہیں ، لیکن عملی لحاظ سے یہ ممکن نہیں۔ایسے گروپ جو عملی لحاظ سے ممکن نہیں ان ۶۳ میں سے ۲۶ ہیں۔اور چار گروپ اختلافی ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ۶۳-۳۰ - ۳۳ گروپ عملی لحاظ سے ممکن ہیں جن میں ذوی الفروض آ سکتے، لیکن ان میں سے ہر گروپ اپنے عصبات کی موجودگی یا ذوی الارحام کی موجودگی سے ایک دوسرے سے مختلف ہوگا۔جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔لیکن انہیں حسب ضرورت اپنے اپنے موقعہ پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔