اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 138

بہت سادہ ہوتی ہیں۔اس سے بہت سادہ دعوت بھی کافی ہوسکتی تھی مگر اصل میں تو روسی دید بہ دکھانا مدنظر تھا اور یہ جذبہ مساوات کی روح کو کچلنے کا موجب ہوا کرتا ہے۔دوسرے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ مساوات کے معنی روس میں بدل رہے ہیں اور ایک نیا طبقہ امراء کا وہاں پیدا ہو رہا ہے جس کی بنیاد کمیونسٹ پارٹی میں پیدا کئے ہوئے رسوخ پر ہے۔پس مساوات کی شکل بدلی ہے چیز اسی طرح قائم ہے جس طرح پہلے تھی۔اس تقریر کے مسودہ پر نظر ثانی کرتے ہوئے ایک خبر روس کی اس عدم مساوات کے بارہ میں ملی ہے جسے میں اس جگہ نقل کر دینا چاہتا ہوں کیونکہ وہ میرے مضمون کے اس حصہ پر روشنی ڈالتی ہے اور اس کی تائید میں ہے۔آسٹریلیا کے مشہور اخبار سن“ نے اپنے کنبرا کے نامہ نگار کی رپورٹ پر یہ خبر شائع کی ہے کہ آسٹریلین وزیر متعینہ روس نے اپنی رخصت کے ایام میں آسٹریلیا کی پارلیمنٹری سنسر پارٹی کی ایک مجلس میں مندرجہ ذیل واقعات بیان کئے۔(1) روس میں ایک نئی دولت مندوں کی جماعت پیدا ہو رہی ہے کیونکہ عام لوگوں کی نسبت کمیونسٹ پارٹی کے سربرآوردہ نمبروں اور صنعتی ماہروں سے بہت ہی زیادہ بہتر سلوک کیا جاتا ہے۔(۲) ریسٹورمیٹوں(RESTAURANTS) میں پانچ قسم کی غذا تیار ہوتی ہے جس کے ٹکٹ کمیونسٹ پارٹی میں رسوخ اور کام کی نوعیت کے مطابق تقسیم ہوتے ہیں ( یعنی اول درجہ کو اول درجہ کا کھانا۔دوسرے درجہ والے کو دوسرے درجہ کا کھانا اور اسی طرح آخر تک) (۳) یہ کہ ان امتیازی سلوکوں کے نتیجہ میں افراد کے درجوں کا فرق ویسا ہی (138)