اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 92

اسلام کا اقتصادی جلد دنیا سے مٹادیا جائے۔اب دیکھو ہمارے نظریہ اور اُن کے نظریہ میں کتنا بڑا فرق ہے اور مشرق و مغرب کے اس قدر بُعد کو کس طرح دُور کیا جاسکتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض لوگ دھو کے باز بھی ہوتے ہیں اور وہ دین کی خدمت کا دعوی کر کے اپنے اعمال اس کے مطابق نہیں بناتے مگر اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ شخص جو دین کی سچی خدمت کر رہا ہو، جو اسلام کی اشاعت کیلئے اپنی زندگی کو قربان کر رہا ہو ہم اُسے اپنا سردار سمجھتے ہیں، اُسے قومی زندگی کیلئے بمنزلہ رُوح سمجھتے ہیں اور ہم اُسے اپنا بڑے سے بڑا محسن سمجھتے ہیں مگر کمیونسٹ ایسے لوگوں کو ادنیٰ سے ادنی اور ذلیل سے ذلیل تر وجود قرار دیتے ہیں۔وہ اُن کو نکما اور قوم کاغذ ار سمجھتے ہیں اور اُن کے نزدیک یہ لوگ اس قابل ہیں کہ یا تو ان کو قید کر دیا جائے اور یا اپنے ملک سے باہر نکال دیا جائے۔کمیونسٹ نظام میں انبیاء علیہم السلام کا درجہ اس تفصیل کے ماتحت کمیونزم نظام میں وہ شخص جس کے پیروں کی میل کے برابر بھی ہم دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ کو نہیں سمجھتے، جس کیلئے ہم میں سے ہر شخص اپنی جان کو قربان کرنا اپنی انتہائی خوش بختی اور سعادت سمجھتا ہے یعنی حضرت محمد مصطفی سالی یا یہ ہم جو رات اور دن خدا کی باتیں سنا کر بنی نوع انسان کی روح کو روشن کیا کرتے تھے اسی طرح مسیح ، موسی، ابراہیم، کرشن، رام چندر، بدھ ، زرتشت، گورونانک، کنفیوشس یہ سب کے سب نَعُوذُ ہاللہ نکمے اور قوم پر بار تھے اور ایسے آدمیوں کو اُن کے قانون کے ماتحت یا تو فیکٹریوں میں کام کے لئے بھجوا دینا چاہئے تا کہ اُن سے جوتے بنوائے جائیں یا اُن سے بوٹ اور گرگا بیاں تیار کرائی جائیں یا اُن سے کپڑے سلائے جائیں یا اُن کولوگوں کے بال کاٹنے 92