اسلام کا اقتصادی نظام — Page 79
اسلام کا اقتصادی نظا (1) (r) (۳) (۴) دولت جمع کرنے کے خلاف وعظ پر۔دولت حد سے زیادہ جمع کرنے کے محرکات کو روکنے پر۔جمع شدہ دولت کو جلد سے جلد بانٹ دینے یا کم کر دینے پر۔حکومت کے روپیہ کو غرباء اور کمزوروں پر خرچ کرنے اور اُن کی ضروریات کو مہیا کرنے پر۔اور یہی نظام حقیقی اور مکمل ہے کیونکہ اس سے (1) (۲) (۳) (۴) (۵) مہیا کیا گیا ہے۔(1) اُخروی زندگی کیلئے سامان بہم پہنچانے کا موقع ملتا ہے۔سادہ اور مفید زندگی کی عادت پڑتی ہے۔جبر کا اس میں دخل نہیں ہے۔انفرادی قابلیت کو کچلا نہیں گیا۔باوجود اس کے غرباء اور کمزوروں کے آرام اور اُن کی ترقی کا سامان اور پھر اس سے دشمنیوں کی بنیاد بھی نہیں پڑتی۔کمیونزم اس نظام کے مقابلہ میں چونکہ کمیونزم کا نظام کھڑا کیا گیا ہے اور اس پر خاص طور پر زوردیا جاتا ہے اس لئے میں اب کچھ باتیں کمیونزم کے متعلق کہنا چاہتا ہوں۔کمیونزم کا دعوی ہے کہ: اول ہر ایک سے اُس کی قابلیت کے مطابق کام لیا جائے۔دوم ہر ایک کو اس کی ضرورت کے مطابق خرچ دیا جائے۔سوم باقی روپیہ حکومت کے پاس رعایا کے وکیل (TRUSTEE) کی صورت میں جمع رہے۔79