اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 74

اسلام کا اقتصادی نظام رات مشغول ہوں اور اس طرح خدا اور اُس کے رسول کے عیال میں داخل ہو گئے ہوں۔گویا ذِي الْقُرْبى کہہ کر بتایا کہ وہ لوگ جو دین کی خدمت پر لگے ہوئے ہوں اُن کو نکتا وجود نہیں سمجھنا چاہئے وہ خدا تعالیٰ کا قرب چاہنے والے اور دنیا کو خدا تعالیٰ کے قرب میں بڑھانے والے ہیں اُن پر بھی یہ روپیہ خرچ کیا جا سکتا ہے۔پس وہ لوگ جو قرآن پڑھانے والے ہوں یا حدیث پڑھانے والے ہوں یا دین کی اشاعت کا کام کرنے والے ہوں اس آیت کے مطابق اُن پر بھی یہ روپیہ خرچ کیا جا سکتا ہے کیونکہ جب وہ دن رات دینی اور مذہبی کاموں میں مشغول رہیں گے تو یہ لازمی بات ہے کہ وہ اپنے لئے دنیا کما نہیں سکیں گے۔ایسی صورت میں اگر حکومت کی طرف سے اُن پر روپیہ خرچ نہیں کیا جائے گا تو دوصورتوں میں سے ایک صورت ضرور ہوگی۔یا تو اُن کے اخلاق بگڑ جائیں گے اور وہ بھیک مانگنے پر مجبور ہو نگے اور یا پھر اس خدمت کو ہی ترک کر دیں گے اور دوسرے لوگوں کی طرح دنیا کمانے میں لگ جائیں گے حالانکہ خدا تعالیٰ کا قرآن کریم میں یہ صاف طور پر حکم موجود ہے کہ ہمیشہ مسلمانوں میں ایک جماعت ایسے لوگوں کی موجود رہنی چاہئے جو اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے اپنی زندگیاں وقف کئے ہوئے ہو اور رات دن دین کی اشاعت کا کام سرانجام دے رہی ہو۔پس ذِي الْقُرْبی سے مراد خدمت دین کا کام کرنے والے لوگ ہیں اور اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ جہاں اس روپیہ میں غرباء کا حق ہے وہاں ان لوگوں کا بھی حق ہے اور حکومت کا فرض ہے کہ اُن پر روپیہ صرف کرے۔پھر فرمایا کہ ہماری اس نصیحت کو یا درکھنا کہ یہ مال امراء کی طرف پھر منتقل نہ ہونے پائے۔آخر میں وَمَا أَتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوا کہہ کر امراء کو سمجھایا کہ دیکھو تم اس روپیہ کو کسی طرح حاصل کرنے کی کوشش نہ کرنا کہ تمہارا فائدہ اسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے ماتحت اپنی زندگی بسر کرو۔74