اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 73

حکم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حکومت کے اموال کو غرباء اور اُن لوگوں کیلئے جن کی ترقی کے راستہ میں روکیں حائل تھیں مخصوص کر دیا ہے۔یہاں اللہ اور رسول کا جو حق مقرر کیا گیا ہے درحقیقت اس سے مراد بھی غرباء ہی ہیں۔اللہ اور اُس کے رسول کا نام صرف اس لئے لیا گیا ہے کہ کبھی حکومت کو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ عبادت گاہیں بنائے ، کبھی حکومت کو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ مدر سے بنائے کبھی حکومت کو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ ہسپتال بنائے۔اگر خالی غرباء کے حقوق کا ہی ذکر ہوتا تو جب کبھی حکومت اس روپیہ سے اس قسم کے کام کرنے لگتی اُس وقت لوگ اس پر اعتراض کرتے کہ تم کو کیا حق ہے کہ اس روپیہ سے عبادت گاہیں بناؤ یا شفاخانہ بناؤ یا سڑکیں بناؤ یا سکول بناؤ یہ تو صرف غرباء کے کھانے پینے ، پہننے پر ہی خرچ ہونا چاہئے۔پس اس نقص کے ازالہ کے لئے اللہ اور اُس کے رسول کے الفاظ رکھ دیئے گئے ہیں۔ورنہ یہ تو ظاہر ہے کہ اللہ کا حق بھی غرباء کو جائے گا کیونکہ خدا تعالیٰ تو روپیہ لینے کیلئے نہیں آتا اور رسول کا حق بھی غرباء کو جائے گا کیونکہ رسول تو ایک فانی وجود ہوتا ہے۔اُس کے نام سے مراد اُس کا قائم کردہ نظام ہی ہوسکتا ہے۔پھر ذی القربی کا جوحق بیان کیا گیا ہے اُس سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار نہیں ہیں جیسا کہ بعض لوگ غلطی سے سمجھتے ہیں کہ ذی القربی کے الفاظ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اُن کا بھی اس روپیہ میں حق ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صاف فرما دیا ہے کہ سادات کیلئے صدقہ یا ز کوۃ کا روپیہ لینا حرام ہے۔در حقیقت اس سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمانی اللہ رشتہ دار نہیں بلکہ وہ لوگ مراد ہیں جو خدا تعالیٰ کی عبادت اور اُس کے دین کی خدمت میں دن ۲۷ 73