اسلام کا اقتصادی نظام — Page 66
غرض ناواجب طور پر منڈی کے بھاؤ میں دخل دینے اور پیداوار اور مانگ کے اصول کو نظر انداز کرنے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔ورنہ نا واجب بھاؤ میں خواہ وہ قیمت کی زیادتی کے متعلق ہو خواہ قیمت کی کمی کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں فرمایا۔چنانچہ احتکار سے روکنا جو احادیث سے ثابت ہے اس امر کا یقینی ثبوت ہے کیونکہ احتکار سے روکنے کی غرض یہی ہے کہ ناجائز طور پر بھاؤ کو بڑھایا نہ جائے اور یہ مناعی یقیناً منڈی کے بھاؤ میں دخل دینا ہے مگر جائز دخل ہے۔پس معلوم ہوا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منڈی کے بھاؤ میں دخل اندازی سے منع کیا تھا تو نا جائز دخل اندازی سے منع کیا تھا۔اصولِ اقتصادیات کے ماتحت دخل اندازی سے منع نہیں فرمایا تھا اور حضرت عمرؓ کا فعل عین مطابق شریعت اور اسلام کے ایک زبر دست اصول کا ظاہر کرنے والا تھا۔خلاصہ یہ کہ یہ تین چیزیں ایسی ہیں جن کے ذریعہ لوگ ناجائز طور پر دولت اپنے قبضہ میں لیا کرتے ہیں اس لئے اسلام نے ان تینوں چیزوں سے روک دیا ہے اور اس طرح ناجائز اور حد سے زیادہ دولت کے اجتماع کے راستہ کو بند کر دیا ہے۔حد سے زائد روپیہ جمع ہونے کے راستہ میں مزید روکیں مگر چونکہ پھر بھی بعض لوگ ذہانت اور ہوشیاری کی وجہ سے ناجائز حد تک روپیہ کما سکتے تھے اور ہوسکتا تھا کہ ان تمام ہدایات اور قیود اور پابندیوں کے باوجود بعض لوگوں کے پاس حد سے زیادہ روپیہ جمع ہو جائے اور غرباء کو نقصان پہنچ جائے۔اس لئے اسلام نے اس کا علاج مندرجہ ذیل ذرائع سے کیا۔66