اسلام کا اقتصادی نظام — Page 63
ہیں ان تینوں ممالک کے تاجر سمجھوتہ کر لیں کہ ہم ایک دوسرے کا مقابلہ نہیں کریں گے بلکہ ایک ہی قیمت پر اپنی دواؤں کو فروخت کریں گے تو اس کے نتیجہ میں دنیا مجبور ہوگی کہ اُن سے اُسی قیمت پر دوائیں خریدے۔اور جتنا نفع وہ مانگتے ہیں وہ اُن کو دے۔یہ کارٹل سسٹم اتنا خطرناک ہے کہ اس سے حکومتیں بھی تنگ آگئی ہیں اور ابھی گزشتہ دنوں اس جرم میں اس کی طرف سے کئی تاجروں پر مقدمات چل چکے ہیں اور انہیں سزائیں بھی دی گئی ہیں مگر چونکہ یقینی نفع کی تمام صورتوں کو اسلام نے ناجائز قرار دے دیا ہے تا کہ دنیا کی دولت پر کوئی ایک طبقہ قابض نہ ہو جائے بلکہ مال تمام لوگوں میں چکر کھاتا رہے اور غرباء بھی اس سے اپنی اقتصادی حالت کو درست کر سکیں۔اسلامی حکومتوں میں یہ طریق چل نہیں سکتے۔سامان کا روک رکھنا منع ہے اسی طرح اسلام نے ایک حکم یہ بھی دیا ہے کہ تم جو مال بھی تیار کرو یا دوسروں سے خرید و اُسے روک کر نہ رکھ لیا کرو کہ جب مال مہنگا ہوگا اور قیمت زیادہ ہوگی اُس وقت ہم اس مال کو فروخت کریں گے۔اگر ایک تاجر مال کو قیمت بڑھنے کے خیال سے روک لیتا ہے اور اُسے لوگوں کے پاس فروخت نہیں کرتا تو اسلامی نقطہ نگاہ کے ماتحت وہ ایک ناجائز فعل کا ارتکاب کرتا ہے۔اگر ایک تاجر کے پاس گندم ہے اور لوگ اپنی ضروریات کے لئے اُس سے گندم خریدنا چاہتے ہیں اور وہ اس خیال سے کہ جب گندم مہنگی ہوگی اُس وقت میں اسے فروخت کروں گا اُس گندم کو روک لیتا ہے اور خریداروں کو دینے سے انکار کر دیتا ہے تو اسلام کی تعلیم کے رو سے وہ ایک گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ چیزوں پر کنٹرول اس زمانہ میں ہی کیا گیا ہے حالانکہ کنٹرول اسلام میں ہمیشہ سے چلا آتا ہے۔انگریزوں نے تو آج اس کو اختیار کیا لیکن اسلام نے آج سے 63