اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 59

کرتے ہیں اور رفتہ رفتہ وہ اتنی ساکھ پیدا کر لیتے ہیں کہ بڑے بڑے بنکوں سے لاکھوں روپیہ قرض یا اوور ڈرافٹ (OVER DRAFT) کے طور پر نکلوالیتے ہیں اور چند سالوں میں ہی لاکھوں سے کروڑوں روپیہ پیدا کر لیتے ہیں۔یا ایک شخص معمولی سرمایہ اپنے پاس رکھتا ہے مگر اُس کا دماغ اچھا ہوتا ہے وہ کسی بنک کے سیکرٹری سے دوستی پیدا کر کے اُس - سے ضرورت کے مطابق لاکھ دولاکھ یا چار لاکھ روپیہ لے لیتا ہے اور چند سالوں میں ہی اُس سے کئی گنا نفع کما کر وہ کروڑ پتی بن جاتا ہے۔غرض جس قدر بڑے بڑے مالدار دنیا میں پائے جاتے ہیں اُن کے حالات پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان میں اپنی خالص کمائی سے بڑھنے والا شاید سو میں سے کوئی ایک ہی ہوگا باقی ننانوے فیصدی ایسے ہی مالدار نظر آئیں گے جنہوں نے سود پر بنکوں سے روپیہ لیا اور تھوڑے عرصہ میں ہی اپنے اعلیٰ دماغ کی وجہ سے کروڑ پتی بن گئے اور لوگوں پر اپنا رعب قائم کر لیا۔پس سود دنیا کی اقتصادی تباہی کا ایک بہت بڑا ذریعہ اور غرباء کی ترقی کے راستہ میں ایک بہت بڑی روک ہے جس کو دور کرنا بنی نوع انسان کا فرض ہے۔اگر ان لوگوں کو شود کے ذریعہ بنکوں میں سے آسانی کے ساتھ روپیہ نہ ملتا تو دوصورتوں میں سے ایک صورت ضرور ہوتی یا تو وہ دوسرے لوگوں کو اپنی تجارت میں شامل کرنے پر مجبور ہوتے اور یا پھر اپنی تجارت کو اس قدر بڑھانہ سکتے کہ بعد میں آنے والوں کے لئے روک بن جاتے اور ٹرسٹ وغیرہ قائم کر کے لوگوں کے لئے ترقی کا راستہ بالکل بند کر دیتے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ مال ملک میں مناسب تناسب کے ساتھ تقسیم ہوتا اور خاص خاص لوگوں کے پاس حد سے زیادہ روپیہ جمع نہ ہوتا جو اقتصادی ترقی کے لئے سخت مُہلک اور ضرررساں چیز ہے۔مگر افسوس ہے کہ لوگ سود کے ان نقصانات کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں مگر اس کے باوجود جس طرح مکڑی اپنے اردگرد 59