اسلام کا اقتصادی نظام — Page 58
سلام کا اقتصادی کمزور طبائع کا علاج مگر اس تعلیم کے باوجود پھر بھی کمزور طبائع ناجائز حد تک روپیہ کما سکتی تھیں اور صرف وعظ اس غرض کو پورا نہیں کر سکتا تھا۔آخر میں نے جو کچھ بیان کیا ہے یہ صرف ایک وعظ ہے جس سے انسان فائدہ اُٹھا سکتا ہے لیکن دنیا میں ایسے کمزور طبع لوگ پائے جاتے ہیں جو وعظ سے فائدہ نہیں اُٹھاتے۔پس چونکہ دنیا میں ایک عنصر ایسے کمزور لوگوں کا بھی تھا جنہوں نے اس وعظ سے پورا فائدہ نہیں اُٹھا نا تھا اس لئے شریعت اسلامی نے بعض ایسے آئین تجویز کر دیئے ہیں جن پر عمل کرانا حکومت کے ذمہ ہے اور جن سے دولت ناجائز حد تک کمائی نہیں جاسکتی۔وہ آئین جو اسلام نے مقرر کئے ہیں یہ ہیں۔اسلام میں ناجائز طور پر روپیہ کے حصول کا سد باب شود کی مناعی اول اسلام نے سُود پر روپیہ لینے اور دینے سے منع کر دیا ہے اور اس طرح تجارت کو محمددو کر دیا۔تعجب کی بات ہے کہ عام طور پر ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ ایک طرف تو کمیونزم کے اصول کا دلدادہ ہے دوسری طرف شود کی بھی تائید کرتا نظر آتا ہے حالانکہ دنیا کی اقتصادی تباہی کا سب سے بڑا موجب یہی سود ہے۔سود کے ذریعہ ایک ہوشیار اور عقلمند تاجر کروڑوں روپیہ لے لیتا ہے اور پھر اس روپیہ کے ذریعہ دنیا کی تجارت پر قبضہ کر لیتا ہے۔بڑے بڑے کارخانے قائم کر لیتا ہے اور ہزاروں ہزار لوگوں کو ہمیشہ کی غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔اگر دنیا کے مالداروں کی فہرست بنائی جائے تو اکثر مالدارو ہی نکلیں گے جنہوں نے سُود کے ذریعہ ترقی کی ہوگی۔پہلے وہ دو چار ہزار روپیہ کے سرمایہ سے کام شروع 58