اسلام کا اقتصادی نظام — Page 50
۱۹ وقت کو ضائع کرنے والی اور زندگی کو بے کا رکھونے والی ہوں۔اسی حکم کے ماتحت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ مرد زیور نہ پہنیں، وہ ریشم استعمال نہ کریں کے اسی طرح سونے چاندی کے برتن استعمال کرنے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے عورتوں کے لئے زیور حرام نہیں مگر اُن کے لئے بھی عام حالات میں رسول کریم صلی الاسلام نے زیورات کو نا پسند فرمایا ہے۔گو اس وجہ سے کہ وہ مقام زینت ہیں زیورات کا استعمال اُن کے لئے پوری طرح منع نہیں کیا۔مگر اسلام اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتا کہ زیورات پر اس قدر روپیہ خرچ کیا جائے کہ ملک کی اقتصادی حالت کو نقصان پہنچ جائے یا انہیں اس قدر زیورات بنوا کر دیئے جائیں کہ اُن میں تفاخر کی روح پیدا ہو جائے یا اس کے نتیجہ میں لالچ اور حرص کا مادہ اُن میں بڑھ جائے۔اُن کے لئے زیورات کی اجازت ہے مگر ایک حد کے اندر لیکن مردوں کے لئے زیورات کا استعمال قطعی طور پر حرام قرار دیا گیا ہے اسی طرح وہ برتن جو سونے چاندی کے ہوں اُن کا استعمال رسول صلى الله کریم ﷺ نے ممنوع قرار دیا ہے۔اس ضمن میں وہ اشیاء بھی آجاتی ہیں جو عام طور پر محض زینت یا تفاخر کے لئے امراء اپنے مکانوں میں رکھتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ اپنے مکان کی زینت کے لئے ایسی ایسی چیزیں خرید لیتے ہیں جن کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہوتا۔مثلاً بعض لوگ چینی کے پرانے برتن خرید کر اپنے مکانوں میں رکھ لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے ایک بڑی قیمتی چیز خریدی ہے۔یورپین لوگوں میں خصوصیت کیساتھ یہ نقص ہے کہ وہ پانچ پانچ دس دس ہزار روپیہ تک کے اس قسم کے برتن خرید لیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ وہ برتن ہیں جو آج سے اتنے ہزار سال پہلے کے ہیں۔یا پرانے قالین بڑی بڑی قیمت پر خرید کر اپنے مکانوں میں 50