اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 40

طوعی نیک کاموں پر۔اگر ایک شخص جبر کے ماتحت کوئی کام کرتا ہے تو گو وہ کام کیسا ہی اچھا ہو جب اگلے جہان میں اعمال کی جزاء کا وقت آئے گا تو اُسے کہا جائے گا کہ یہ کام تم نے نہیں کیا لینن نے کیا ہے، یہ کام تم نے نہیں کیا سٹالن نے کیا ہے، یہ کام تم نے نہیں کیا انگریزوں نے کیا ہے۔غرض جتنے کام انسان جبر کے ماتحت کرتا ہے اُس میں وہ کسی اجر کا مستحق نہیں ہوتا۔پس ایک سچے مسلمان کو جو اپنے مذہب کی بنیاد کو مجھتا ہے حریت شخصی کے مٹادینے کا قائل کرنا ناممکن ہے۔اُسی صورت میں وہ اس امر کو تسلیم کرے گا جب وہ اپنے مذہب کی بنیاد کا ہی انکار کر دے گا۔یہ تو ہوسکتا ہے کہ ایک شخص جو مسلمان کہلا تا ہو وہ اسلام کی تعلیم سے بدظن ہو جائے اور وہ اُس تعلیم کا قائل ہی نہ رہے جو اسلام نے اقتصادیات کے متعلق دی ہے مگر جو شخص اسلام کی تعلیم پر یقین رکھتا ہو جو اُس کے اقتصادی نظریات کو جز و ایمان قرار دیتا ہو وہ کبھی بھی حریت شخصی کو اصولی طور پر مٹادینے کا قائل نہیں ہوسکتا۔اسلام کے اقتصادی نظام کی بنیاد دو اصولوں پر ان حالات میں یہ امر آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر اسلام کوئی منصفانہ اور عادلانہ اقتصادی نظام قائم کرے گا تو اُس کی بنیاد ان دو اصولوں پر ہوگی۔(۱) بنی نوع انسان میں منصفانہ تقسیم اموال اور مناسب ذرائع کسب کی تقسیم کا اصول طوعی فردی قربانی پر ہونا چاہئے تاکہ دنیا کی اقتصادی حالت بھی درست ہو اور اس کے ساتھ ہی انسان اپنی اُخروی زندگی کے لئے بھی سامان جمع کر لے۔اسی لئے رسول کریم صالی ای ستم نے فرمایا کہ جو شخص اپنی بیوی کے منہ میں ثواب اور خدا تعالیٰ کی خوشنودی کی نیت سے لقمہ ڈالتا ہے وہ ایسا ہی کام کرتا ہے جیسا کہ صدقہ کرنے والا۔" اب دیکھو یہ فعل وہ ہے جس میں انسان کی اپنی خواہش کا دخل ہے۔وہ اپنی بیوی سے 40