اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 120

اس سے دنیا کو آخر بہت نقصان پہنچے گا۔روس میں اور دوسرے ممالک میں جو کمیونسٹ ہیں وہ اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ کمیونزم نے ہر شخص کی روٹی اور کپڑے کا انتظام کر دیا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جہاں تک روٹی اور کپڑے کا سوال ہے ہم بھی خوش ہیں کہ لوگوں کی اس ضرورت کو پورا کیا گیا لیکن اس کے ساتھ ہی اُس عظیم الشان خطرہ کو کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو ایک نئے کیپیٹل سٹم (CAPITAL SYSTEM) کی صورت میں دنیا کے سامنے آنے والا ہے۔روس کا دعویٰ ہے کہ اُس نے ۱۹۲۸ء سے ۱۹۳۷ء تک اپنے ملک کی صنعتی پیداوار کو ۶۲۶۷ فیصدی بڑھا دیا ہے۔یعنی پہلے اگر ایک ارب تھی تو اب چھ ارب پچیس کروڑ ہے۔پہلے اگر سو موٹر روس میں بنتا تھا تو اب ۶۲۵ موٹر بنتا ہے یا پہلے اُس کے کارخانوں میں اگر ایک لاکھ تھان کپڑے کا تیار ہوا کرتا تھا تو اب چھ لاکھ پچیس ہزار تھان بنتا ہے۔یہ ترقی واقعہ میں ایسی ہے جو قابل تعریف ہے۔روسی کمیونزم کا یہ بھی دعوی ہے کہ ۱۹۲۸ء سے ۱۹۳۷ ء تک دس بلین روبلز سے اس کا صنعتی سرمایہ پچہتر بلین روبلز تک بڑھ گیا ہے ( روبل کی موجودہ قیمت بہت تھوڑی ہے ) گویا اس عرصہ میں اُس نے ساڑھے سات گنا اپنا سرمایہ بڑھا لیا ہے اور سوا چھ سو گنا اُس نے اپنی صنعتی پیداوار کو بڑھا لیا ہے۔اُس کا یہ بھی دعوی ہے کہ صرف ۱۹۳۷ء میں اُس نے اپنی ملکی آمد کا ۱/۳ حصہ کارخانوں کی ترقی پر لگایا ہے یہ بھی بڑی شاندار ترقی ہے۔مگر ایک بات پر غور کرنا چاہئے کیا روس بغیر دوسرے ملکوں سے تجارتی لین دین کرنے کے ہمیشہ کیلئے ایک بند دروازہ کی پالیسی پر عمل کر کے اپنی اس ترقی کی رفتار کو جاری رکھ سکتا ہے؟ اس وقت تو صورت یہ ہے کہ روس نہ بیرونی ملکوں کو اپنی بنی ہوئی چیزیں بھیجتا ہے اور نہ الَّا مَا شَاء اللہ باہر سے کوئی چیزیں (120)