اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 121

لیتا ہے۔وہ اگر باہر سے کوئی چیز منگواتا ہے تو صرف اتنی جس سے اُس کے کارخانوں کی ضروریات پوری ہو سکیں۔گویا روس کی مثال اس وقت ایسی ہی ہے جیسے ہندوستان کا کسان اپنی زمین پر گزارہ کرتا ہے۔اُس کے کچھ حصہ سے گڑ پیدا کر لیتا ہے، کچھ حصہ سے ماش پیدا کر لیتا ہے، کچھ حصہ سے چاول پیدا کر لیتا ہے، کچھ حصہ سے تل پیدا کر لیتا ہے، کچھ حصہ سے گندم پیدا کر لیتا ہے اور اس طرح اپنی زندگی کے دن گزارتا رہتا ہے۔مگر یہ صورت حالات تمدن کے ہر درجہ میں قائم نہیں رہ سکتی۔اگر یہ صورت تمدن کے ہر درجہ میں جاری رہ سکتی تو وہ جھگڑے جو آج دنیا کے تمام ممالک میں نظر آرہے ہیں اور جن کی وجہ سے عالمگیر جنگوں تک نوبت آچکی ہے کیوں پیدا ہوتے۔بہر حال یہ صورت متمدن ممالک میں قائم نہیں رہ سکتی۔دنیا کیلئے اقتصادی طور پر ایک سخت دھنگا دنیا کی ساری قو میں یہ تسلیم کرتی ہیں کہ کوئی ملک اکیلا زندہ نہیں رہ سکتا بلکہ وہ اس بات کا محتاج ہوتا ہے کہ دوسروں سے تعلقات پیدا کرے اور تجربہ اس کی صداقت پر گواہ ہے۔پس جب کہ روس ہمیشہ کیلئے ایک بند دروازہ کی پالیسی پر عمل کر کے ترقی نہیں کر سکتا تو کیا جب روسی کارخانوں کی پیداوار اُس کے ملک کی ضرورت سے بڑھ جائے گی تو وہ اپنی صنعت کو دوسرے ممالک میں پھیلانے کی کوشش نہیں کرے گا؟ دُور کیوں جائیں اِن جنگ کے دنوں میں ہی روس مجبور ہوا ہے کہ امریکہ اور انگلستان سے نہایت کثرت کے ساتھ سامان منگوائے اور جس سُرعت اور تیزی کے ساتھ روس صنعت میں ترقی کر رہا ہے وہ اگر جاری رہی تو چند سالوں میں ہی روس کے صنعتی کارخانے اس قدر سامان پیدا کریں گے کہ وہ اس بات پر مجبور ہو جائے گا کہ غیر ملکوں کے پاس اُسے فروخت کرے۔ذرا سوچو 121