اسلام کا اقتصادی نظام — Page 100
سلام کا اقتصادی زن دخل اندازی کو تسلیم کرنا چاہئے۔اسلام میں حق ملکیت اسلام کی تعلیم جس کے اصول پہلے بتائے جاچکے ہیں اس بارہ میں یہ ہے کہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے حق ملکیت کو جو جائز طور پر ہو تسلیم کیا ہے مگر اس کے ساتھ یہ حکم دیا ہے کہ زمین کا مالک اپنی زمین کو اپنی اولاد میں ضرور تقسیم کرے (لڑکے کا ایک حصہ لڑکی کا نصف حصہ اور والدین کا ۱/۳) اور کسی ایک بچے کے پاس نہ رہنے دے۔اگر اولاد نہ ہو تب بھی وہ ماں باپ اور بہن بھائیوں میں تقسیم ہو۔اگر وہ بھی نہ ہو تو اللہ تعالی کی نمائندہ حکومت کے پاس وہ زمین کوٹ جائے۔۱/۳ سے زائد کوئی شخص اپنی جائدادکو وصیت میں نہیں دے سکتا لیکن یہ ۱/۳ حصہ وارثوں میں سے کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔کس قدر پر حکمت تعلیم ہے۔(1) بوجہ ملکیت کو تسلیم کرنے کے ہر شخص جس کے پاس زمین ہوگی اُسے بہتر طور پر کاشت کرے گا کیونکہ اس کے گزارہ کا مدار اس زمین پر ہوگا (۲) اس کے بچے یہ جانتے ہوئے کہ وہ اس زمین پر کاشت کریں گے اس فن میں مہارت پیدا کرنے کی کوشش کریں گے (۳) اگر زمین نسبتی طور پر زیادہ بھی ہوگی تو تقسیم وارثت کے ذریعہ سے لازماً کم ہوتی چلی جائے گی (۴) چونکہ اسلام زمین کو اللہ تعالیٰ کی ملکیت قرار دیتا ہے اس لئے ناجائز طور پر بہت سی زمین کسی کے پاس نہیں جاسکتی۔ناجائز سے مراد یہ ہے کہ اسلام کے سوا دوسرے نظاموں میں مفتوحہ ملکوں کی زمین بادشاہ کے ساتھیوں یا بارسوخ ہم قوموں میں تقسیم کر دی (100)