اسلام کا اقتصادی نظام — Page 98
قابلیت ہو اور سب کی ایک جتنی زندگی ہو؟ پھر رشتہ داروں کے دکھ سے انسان کو کیسا عذاب ہوتا ہے تم ہزار پلاؤ اور فرنیاں سامنے رکھ دو وہ ماں جس کا اکلوتا بچہ مرگیا ہے اُسے ان کھانوں میں کوئی مزا نہیں آئیگا لیکن وہ ماں جس کے سینہ سے اس کا بچہ چمٹا ہوا ہوا سے جومزا باسی روٹی کھانے میں آتا ہے وہ اس بڑے سے بڑے مالدار کو بھی نہیں آتا جس کے سامنے بارہ یا چودہ ڈشوں میں مختلف قسم کے کھانے پک کر آتے ہیں۔رشتہ داروں کے متعلق انسانی جذبات کی شدت کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ابتداء میں جب بالشویک اور منشویک دو پارٹیاں بنیں تو مارٹوو (1923-1873 MARTOV, YULY) جولین کی طرح اپنی پارٹی میں مقتدر تھا اس نے کہا کہ ہمیں اپنے قوانین میں یہ بھی لکھ لینا چاہئے کہ آئندہ ہماری حکومت میں پھانسی کی سزا کسی کو نہیں دی جائے گی کیونکہ انسانی جان لینا درست نہیں اور لوگ بھی اس سے متفق تھے اور وہ چاہتے تھے کہ پھانسی کی سزا کو اڑا دیا جائے مگر لین نے اُس سے اختلاف کیا اور کہا کہ گو اصولاً یہ بات درست ہے مگر اس وقت اگر یہ بات قانون میں داخل کر دی گئی تو زار کو پھانسی پر لٹکا یا نہیں جاسکے گا پس خواہ صرف زار کی جان لینے کیلئے اس قانون کو جاری رکھنا پڑے تب بھی یہ قانون ضرور قائم رہنا چاہئے ورنہ زار کو پھانسی پر لٹکا یا نہیں جاسکے گا۔لینن کی زار سے یہ انتہا درجہ کی دشمنی جس کی وجہ سے اُس نے پھانسی کی سزا کو منسوخ نہ ہونے دیا محض اس وجہ سے تھی کہ اُس کے بھائی کو ز ارسٹ حکومت نے کسی جرم میں پھانسی پر لٹکا دیا تھا۔لین کے دل میں اپنے بھائی کی شدید محبت تھی اس لئے اُس نے چاہا کہ پھانسی کا قانون قائم رہے تا کہ وہ اپنے بھائی کی موت کا بدلہ زار سے لے سکے اور اُسے پھانسی پر لٹکا کر اپنے دل کو ٹھنڈا کر سکے۔غرض رشتہ داروں کا دکھ بھی اتنا سخت ہوتا ہے کہ روٹی کا دُکھ اُس کے مقابلہ میں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتا۔مگر کیا کوئی بھی گورنمنٹ 98