اسلام کا اقتصادی نظام — Page 97
حالت میں لے گئے جو اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت کی حالت تھی اور مسلمان کو اس کے کام سے محروم کر دیا۔اسی طرح بعض اور بھی سوالات ہیں جو اس جگہ پیدا ہوتے ہیں مگر چونکہ میں اس وقت اُن سیاسی علمی اور مذہبی سوالوں کو جو اقتصادیات سے جُدا ہیں نہیں چھو رہا اس لئے میں اُن کا ذکر نہیں کرتا۔مکمل مساوات ناممکن ہے کمیونسٹ اقتصادیات کا جو اثر مذاہب پر پڑتا ہے اُس کی خرابیاں بتانے کے بعد اب میں یہ بتاتا ہوں کہ یہ نظام عقلاً بھی ناقص ہے۔پوری مساوات کو ئی شخص کر ہی نہیں سکتا۔صرف روپیہ ہی تو انسان کی خوشی کا موجب نہیں ہوتا نہ صرف روٹی اُس کا پیٹ بھرتی ہے مگر پھر بھی سوال یہ ہے کہ کیا ہر شخص ایک سکی روٹی کھاتا ہے؟ کیا ہر شخص ایک سامزہ کھانے سے حاصل کر سکتا ہے؟ کیا ہر شخص کی نظر ایک سی ہے؟ کیا ہرشخص کی صحت ایک سی ہے اور کیا ان امور میں مساوات پیدا کی جا سکتی ہے؟ یہ چیزیں بھی تو انسان کا آرام بڑھانے کا موجب ہوتی ہیں۔ذہنی قابلیتیں کس قدر تسلی کا موجب ہوتی ہیں مگر دنیا میں کیا کوئی گورنمنٹ ان ذہنی قابلیتوں میں مساوات پیدا کرسکتی ہے؟ رشتہ داروں کی حیات انسان کے اطمینان قلب کا کس قدر موجب ہوتی ہے مگر کیا کوئی رشتہ داروں کی زندگی کا بیمہ لے سکتا ہے؟ کیا کوئی گورنمنٹ کہہ سکتی ہے کہ میں اس رنگ میں مساوات قائم کروں گی کہ آئندہ تیری بیوی بھی اتنے سال زندہ رہے گی اور فلاں شخص کی بیوی بھی اتنے سال زندہ رہے گی یا زید کے بھائی بھی اتنا عرصہ جیتے رہیں گے اور بکر کے بھائی بھی اتنا عرصہ زندہ رہیں گے؟ پھر اولا د کا وجود اور ان کی زندگی انسان کیلئے کس قدر تسلی کا موجب ہوتی ہے مگر کیا دنیا کی کوئی بھی گورنمنٹ ایسا کر سکتی ہے کہ سب کے ہاں ایک جتنی اولاد پیدا ہو، سب کی ایک جیسی 97