اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 96

نہ سکھاؤ اور ہم بھی کچھ نہیں سکھا ئیں گے تو دوسرے لفظوں میں اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ہم تو سکھائیں گے مگر تمہاری کوئی بات بچے کو سیکھنے نہیں دیں گے۔اب بتاؤ کیا کوئی بھی معقول آدمی اس بات کو تسلیم کر سکتا ہے کہ یہ منصفانہ طریق ہے یہ تو صریح یکطرفہ طریق ہے اور ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کسی کے باپ کے پاس جائے اور اسے کہے کہ آپ بچے کو یہ نہ بتائیں کہ میں تمہارا باپ ہوں اور میں اُسے یہ نہیں کہوں گا کہ آپ اُس کے باپ نہیں ہیں اب بتاؤ اس کے نتیجہ میں بچہ کیا سیکھے گا؟ یہی سمجھے گا کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے۔یا ایک شخص مدرسہ میں جا کر اُستاد سے کہے کہ آپ بچے کو یہ نہ بتائیے کہ الف ہے اور میں اُسے یہ نہیں کہوں گا کہ یہ الف نہیں۔آپ بچے کو یہ نہ بتائیے کہ یہ با ہے اور میں اُسے یہ نہیں کہوں گا کہ یہ بانہیں۔بتاؤ اس کے نتیجہ میں الف، با کا علم پیدا ہوگا یا جہالت پیدا ہوگی ؟ یا ایک شخص کسی کے پاس جائے اور کہے کہ تم بچے کو یہ نہ بتاؤ کہ امریکہ ایک ملک ہے اور میں اُسے یہ نہیں کہوں گا کہ امریکہ ملک نہیں ہے۔اس کا نتیجہ آخر کیا ہوگا؟ یہی ہوگا کہ اُسے امریکہ کا علم نہیں ہوگا۔غرض کوئی بھی معقول آدمی اس سودے کو انصاف کا سودا نہیں کہہ سکتا۔اور اس کی وجہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہ ہے کہ مذہب مثبت ہے اور دہریت اگناسٹزم ہے یعنی نہ جاننے کا دعویٰ تعلیم کی نفی کی صورت میں اگناسٹک کا مدعا پورا ہو گیا اور نقصان صرف مثبت والے کو ہوا۔پس یہ مساوات نہیں بلکہ دھو کے بازی ہے۔اسلام وہ مذہب ہے جو دنیا کے سامنے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَالَمْ يَعْلَمُ۔ہم انسان کو قرآن کریم کے ذریعہ وہ علوم سکھائیں گے جن کو وہ اس سے پہلے نہیں جانتا تھا۔پس جب کہ اسلام دعوی ہی یہ کرتا ہے کہ ہم وہ علوم تمہیں بتائیں گے جو اس سے پہلے تم نہیں جانتے تھے۔تو اگر تم کسی کو وہ علوم بتانے ہی نہیں دو گے تو تم ایک مسلمان کے برابر کس طرح ہو گئے۔تم تو اُس بے علم کو اس 96