اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 95

حقیقت کو واضح کر کے کبھی نہیں لا سکتے۔کمیونسٹ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم کسی مذہب کے خلاف نہیں ہیں مگر جیسا کہ میں نے اوپر بتایا ہے یہ بات درست نہیں وہ لفظا خلاف نہیں لیکن عملاً خلاف ہیں اور جبکہ حالات یہ بتا رہے ہیں کہ وہ مذہب کی کوئی حیثیت تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تو یہ کہنا کہ ہم مذہب کے خلاف نہیں ہیں جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے۔مذہبی تعلیم میں روک ڈالنے کے لئے مختلف ذرائع کا استعمال اس سلسلہ میں ضمنا یہ بات بھی کہے جانے کے قابل ہے کہ روس میں مذہبی تعلیم میں روک ڈالی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ ماں باپ کا یہ ہرگز حق نہیں کہ وہ اپنے بچوں کو مذہبی باتیں سکھائیں اور پیدا ہوتے ہی اُس کے کانوں میں ایسی باتیں ڈالنی شروع کر دیں جن کے نتیجہ میں وہ مذہب کی طرف مائل ہو جائے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ بچے پر کتنا بڑا ظلم ہے کہ اسے پیدا ہوتے ہی ایک مسلمان اسلام کی طرف مائل کرنا شروع کر دیتا ہے، ایک ہندو ہندو مذہب کی طرف مائل کرنا شروع کر دیتا ہے اور ایک عیسائی عیسائی مذہب کی طرف مائل کرنا شروع کر دیتا ہے۔انصاف کا طریق یہ ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتو بلوغت تک اُسے مذہب کی کوئی بات سکھائی نہ جائے۔دوسری طرف ہم بھی اُسے کوئی بات نہیں بتائیں گے۔جب وہ بڑا ہوگا تو خود بخود فیصلہ کرلے گا کہ اُسے کونسا طریق اختیار کرنا چاہئے۔اب بظاہر یہ ایک منصفانہ طریق نظر آتا ہے مگر حقیقتا یہ بڑا بھاری ظلم اور تشدد ہے اس لئے کہ اسلام یا عیسائیت یا ہندومت یہ سب مثبت مذاہب ہیں۔یہ دعوی کرتے ہیں کہ فلاں فلاں چیز کا وجود ہے لیکن دہر یہ یہ کہتے ہیں کہ اس چیز کا وجود نہیں ہے۔اب یہ سیدھی بات ہے کہ سکھانے کی تو مثبت والے کو ضرورت ہوتی ہے منفی والے کو کیا ضرورت ہے۔پس یہ مساوات نہیں بلکہ دھو کے بازی اور فریب کاری ہے۔جب وہ کہتے ہیں کہ بچوں کو تم بھی کچھ 95