اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 94

میں پھیلاتے ہیں تو وہ جاہل کہتے ہیں کہ یہ ( نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذُلِكَ ) پیرا سائٹس (PARASITES) ہیں۔یہ سوسائٹی کو ہلاک کرنے والے جراثیم ہیں۔یہ اس قابل نہیں ہیں کہ اُن کو کام کرنے والا قرار دیا جائے حالانکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دن کو بھی کام کیا اور رات کو بھی کام کیا۔انہوں نے دن کو دن نہیں سمجھا اور راتوں کو رات نہیں سمجھا، تعیش کو انہوں نے اپنے اوپر حرام کر لیا اور اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے بنی نوع انسان کی علمی اور اخلاقی اور روحانی اصلاح کے لئے کام کیا مگر یہ لوگ اُن کے نزدیک نکھے اور قوم پر بار تھے۔وہ سینما میں اپنے رات اور دن بسر کرنے والے تو کام کرنے والے ہیں اور یہ لوگ جو دن کو بنی نوع انسان کی اصلاح کا کام کرتے اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے یہ کوئی کام کرنے والے نہیں تھے۔وہ لوگ جو مظلوموں کی مدد کیا کرتے تھے ، جو اخلاق کو درست کیا کرتے تھے ، جو ہر قسم کی تکالیف برداشت کر کے دنیا میں نیکی کو پھیلاتے اور بدی کو مٹاتے تھے وہ تو نکھے تھے اور یہ سینما میں جانے والے اور شرابیں پی پی کرنا چنے والے اور بانسریاں منہ کو لگا کر پیں پیں کرنے والے کام کرنے والے ہیں۔سچے مسلمان کے لئے غیرت کا مقام غرض جہاں تک واقعات کا سوال ہے کمیونسٹ نظام میں ان لوگوں کی کوئی جگہ نہیں۔میں دوسری دنیا کو نہیں جانتا مگر میں اپنے متعلق یہ کہ سکتا ہوں کہ وہ نظام جس میں محمد رسول اللہ سی ایم کی جگہ نہیں خدا کی قسم ! اُس میں میری بھی جگہ نہیں۔ہم اُسی ملک اور اُسی نظام کو اپنا نظام سمجھتے ہیں جس میں اِن لوگوں کو پہلے جگہ ملے اور بعد میں ہمیں جگہ ملے۔وہ ملک اگر محمد رسول اللہ سا لیا ایم کے لئے بند ہے تو یقینا ہر سچے مسلمان کے لئے بھی بند ہے۔وہ حقیقت پر پردہ ڈال کر مذاہب پر عقیدت رکھنے والوں کو اس نظام کی طرف لا سکتے ہیں مگر 94