اسلام کا اقتصادی نظام — Page 85
مذہب کو نہیں مانتا۔وہ سمجھتا ہے کہ یہ مذہبی لوگ پاگل ہیں اور اپنے وقت کو ضائع کر رہے ہیں۔اس لئے ان مبلغوں کی خوراک یا لباس یا رہائش وغیرہ کی حکومت ذمہ دار نہیں ہوسکتی۔حکومت اُن کی اسی صورت میں ذمہ دار ہو سکتی ہے جب وہ کام کریں جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ مادی کام کریں۔مذہبی اور روحانی کاموں سے دست بردار ہو جائیں۔پس کمیونزم کے ماتحت اسلام روس میں اپنی اس جدو جہد کو جاری ہی نہیں کر سکتا۔جاری رکھنا اور مسلسل جاری رکھتے چلے جانا تو الگ رہا۔ایک مسلمان کے نزدیک خواہ وہ بھوکا ر ہے مگر اُخروی زندگی درست ہو جائے تو وہ کامیاب ہے اور اپنے بھائی کے متعلق اس کا یہ نظریہ ہے کہ اگر دنیا بھر کی دولت اس کے پاس ہو لیکن اُخروی زندگی اُس کو نہ ملے۔ہدایت اُس کو میسر نہ آئے خدا تعالیٰ کی رضا اس کو حاصل نہ ہو تو وہ ناکام ہے۔جس شخص کا یہ عقیدہ ہو اس کی خیر خواہی اُسے مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے گمراہ بھائی کی اُخروی زندگی کیلئے سامان مہیا کرے۔مگر اُس سے اُس کا سارا مال لے لیا جاتا ہے یہ کہہ کر کہ ہم وطن کی جان بچاتے ہیں اور اُس کی روح کو مرنے دیا جاتا ہے۔جہاں تک روٹی اور کپڑا اور مکان مہیا کرنے کا سوال تھا۔جہاں تک تعلیم مہیا کرنے کا سوال تھا۔جہاں تک علاج مہیا کرنے کا سوال تھا ہم اسلامی تعلیم کے ماتحت اُن سے متفق تھے اور ہم سمجھتے تھے کہ اس قدر ٹیکس ضرور لگنا چاہئے کہ دنیا میں ہر فرد کو یہ تمام ضروریات میسر آجائیں۔مگر یہاں تو دوسرا نقطہ یہ بھی ہے کہ اپنی روٹی کپڑے سے زائد سب کچھ حکومت کو دے دو اور اپنے عقیدہ کی اشاعت میں کوئی حصہ نہ لو۔گویا ہم نے تو اُن کی تائید کی اور اس لئے کہ ہمارا مذہب بھی یہی تعلیم دیتا ہے۔مگر انہوں نے بجائے مذہب کا شکر گزار ہونے کے اور اُس کی اشاعت کی اجازت دینے کے یہ کہہ دیا کہ ہم خدا اور اس کے رسول کا نام پھیلانے کی تمہیں 85