اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 4

اور مقتدر کو خدا تعالیٰ کی طرف سے حکومت ملتی ہے خواہ وہ کیسا ہی جابر بادشاہ ہو یا کیسا ہی ظالم ہو یا کیسا ہی گندہ اور خراب ہو وہ ہر حالت میں خدا تعالیٰ کا نمائندہ ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بادشاہت ملنے کے سامان خدا تعالیٰ کی طرف سے پیدا کئے جاتے ہیں۔پس اگر کسی کو بادشاہت ملتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اُس کے پیدا کردہ اسباب سے کام لینے کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے اور جبکہ بادشاہت خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے تو جسے بھی بادشاہت یا کوئی اقتدار حاصل ہو وہ زیادہ سے زیادہ دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے وکیل اور متوتی قرار دیا جاسکتا ہے حاکم مطلق یا مالک مطلق قرار نہیں دیا جا سکتا۔آخری طاقت اور آخری فیصلہ کرنے والی ہستی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔بہر حال جو بھی حاکم ہو، بادشاہ ہو، ڈکٹیٹر ہو یا پارلیمنٹ کی صورت میں بعض افراد کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور ہوا گر وہ کوئی آئین دنیا میں نافذ کرتے ہیں تو وہ اُس آئین کے نفاذ میں خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہیں۔اگر وہ کوئی ایسی خرابی پیدا کریں گے جس سے خُدا تعالیٰ نے روکا ہوا ہے یا کوئی ایسی نیکی ترک کریں گے جس کے کرنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہوا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے سامنے ایک مجرم کی حیثیت میں پیش ہوں گے۔ویسے ہی جیسے ایک باغی غلام یا سرکش ملازم اپنے آقا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے اپنے ان افعال کی سزا پائیں گے خواہ وہ بادشاہ کہلاتے ہوں یاڈکٹیٹر کہلاتے ہوں یا پارلیمنٹ کہلاتے ہوں۔پس اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر شخص جو بادشاہ بنتا ہے خدا تعالیٰ کی مرضی سے بنتا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے دائرہ عمل میں خدا تعالیٰ کی ملکیت پر قابض ہوتا ہے اس لئے اُسے خدائی آئین کے مطابق حکومت کرنی چاہئے اور خدا تعالیٰ کی نیابت میں اپنے اقتدار کو استعمال کرنا چاہئے ورنہ وہ گنہگار ہوگا۔ہاں بعض حالات میں خدا تعالیٰ کی طرف 4