اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 5

سے بھی بادشاہ مقرر کئے جاتے ہیں جو بہر حال نیک اور منصف ہوتے ہیں مگر اُن کی بادشاہتیں دینی ہوتی ہیں دُنیوی نہیں۔حکام کیلئے اسلامی احکام اسی طرح حکام کے بارے میں فرماتا ہے کہ بعض حاکم ایسے ہوتے ہیں کہ وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيْهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ۚ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الفَسَاد کے یعنی دنیا میں کئی حاکم اور بادشاہ ایسے ہوتے ہیں کہ جب انہیں بادشاہت مل جاتی ہے یعنی وہ خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ طاقتوں سے کام لے کر حکومت پر قابض ہو جاتے ہیں تو بجائے اس کے کہ رعایا اور ملک کی خدمت کریں، بجائے اس کے کہ امن قائم کریں، بجائے اس کے کہ لوگوں کے دلوں میں سکینت اور اطمینان پیدا کریں وہ ایسی تدابیر اختیار کرنی شروع کر دیتے ہیں جن سے قومیں قوموں سے قبیلے قبیلوں سے اور ایک مذہب کے ماننے والے دوسرے مذہب کے ماننے والوں سے لڑنے جھگڑنے لگ جاتے ہیں اور ملک میں طوائف الملوکی کی حالت پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح وہ ایسے طریق اختیار کرتے ہیں جن سے ملک کی تمدنی اور اقتصادی حالت تباہ ہو جاتی ہے اور آئندہ نسلیں بیکار ہو جاتی ہیں۔حزث کے لغوی معنی تو کھیتی کے ہیں مگر یہاں حرث کا لفظ استعارہ وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ جتنے ذرائع ملک کی اقتصادی ترقی کے یا جتنے ذرائع ملک کی مالی حالت کو ترقی دینے والے یا جتنے ذرائع ملک کی تمدنی حالت کو بہتر بنانے والے ہوتے ہیں اُن ذرائع کو اختیار کرنے کی بجائے وہ ایسے قوانین بناتے ہیں جن سے تمدن تباہ ہو، اقتصاد برباد ہو، مالی حالت میں ترقی نہ ہو اس طرح وہ نسلوں کی ترقی پر تبر رکھ دیتے ہیں اور ایسے قوانین بناتے ہیں جس سے آئندہ پیدا ہونے والی نسلیں اپنی 5