اسلام کا اقتصادی نظام — Page 84
روسی حکومت ایران کی سرحد پر لا کر چھوڑ گئی ہے۔چنانچہ میں نے گورنمنٹ کو لکھا کہ اس مبلغ کو آپ ہمارے پاس بھجوا دیں اور آپ کا جس قدر خرچ ہو وہ ہم سے وصول کریں۔اس پر گورنمنٹ نے ان کو ہندوستان پہنچادیا۔پس یہ وہ ہمارے مبلغ ہیں جنہیں دو ماہ کم دو سال شدید ترین عذابوں میں مبتلا رکھا گیا اور کسی ایک مرحلہ پر بھی ان کو مذہبی تبلیغ کی اجازت روس میں نہ دی گئی۔پس اول تو وہ سیاسی طور پر تبلیغ کی اجازت نہیں دیتے لیکن چونکہ یہ اقتصادی مضمون ہے اس لئے اسے نظر انداز بھی کر دو تو سوال یہ ہے کہ ایک اقلیت اکثریت کے مذہب کو بدلنے کے لئے کس قدر قربانی کے بعد لٹریچر وغیرہ مہیا کرسکتی ہے۔مثلاً ہماری جماعت ہی کو لے لو۔ہم اقلیت ہیں مگر دنیا میں اسلام کو پھیلانا چاہتے ہیں۔ہمارے آدمی اگر روس میں تبلیغ کرنے کیلئے جاتے ہیں تو ہر شخص یہ آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ ۱۷ کروڑ رشین کو مسلمان بنانے کے لئے کتنے کثیر لٹریچر کی ضرورت ہے اور کتنا مال ہے جو اس جدو جہد پر خرچ آ سکتا ہے۔ہماری جماعت اس جدو جہد کو اُسی صورت میں جاری رکھ سکتی ہے جب اس کی کمائی اس سے پوری نہ چھین لی جائے اور کھانے پینے اور پہنے کے علاوہ بھی اس کے پاس روپیہ ہوتا وہ اس سے ان اخراجات کو پورا کر سکے جن کو وہ اپنی اُخروی بھلائی کیلئے ضروری سمجھتی ہے۔لیکن کمیونزم کا اقتصادی نظام تو کسی کے پاس زائد رو پیداہنے ہی نہیں دیتا کیونکہ وہ اس جدو جہد کو کام ہی نہیں سمجھتا۔اس کے نزدیک مادی کام کام ہیں لیکن مذہبی کام کام نہیں ہیں۔وہ مشین چلانے کو کام سمجھتا ہے، وہ ہل چلانے کو کام سمجھتا ہے۔وہ کارخانے میں کام کرنے کو کام سمجھتا ہے لیکن خدائے واحد کے نام کی بلندی اور اس کے دین کی اشاعت کے کام کو وہ کام نہیں سمجھتا کیونکہ وہ الہام کو نہیں مانتا۔وہ شریعت کو نہیں مانتا۔وہ۔84