اسلام کا اقتصادی نظام — Page 83
اگر یہ اُن کی بھلائی اور عاقبت کی بہتری کا خواہشمند ہے تو یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ یہ اُن کے سامنے اس پیغام کو پیش نہ کرے جو اُس کے عقیدہ کی رو سے انسان کی دائمی حیات کے لئے ضروری ہے۔اگر یہ اپنے دوست کے متعلق پسند نہیں کرتا کہ وہ گڑھے میں جا گرے، اگر یہ اپنے دوست کے متعلق پسند نہیں کرتا کہ دشمن اُسے گولی کا شکار بنائے تو یہ کس طرح پسند کر سکتا ہے کہ ابدالآباد کی زندگی میں وہ دوزخ میں ڈالا جائے اور خدا تعالیٰ کی جنت اور اُس کے قرب اور اُس کی رضامندی سے محروم ہو جائے۔چاہے تم کچھ کہہ لو ایک مذہب سے وابستہ انسان کی انتہائی آرزو یہی ہوگی کہ وہ اپنے بھائی کی اعتقادی اور عملی حالت کو درست کرے لیکن کمیونسٹ نظام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔اُس کی جد و جہد کو اول تو سیاسی طور پر روکا جائے گا چنانچہ ہمارا اپنا تجربہ اس کی تصدیق کرتا ہے۔میں نے ایک احمدی مبلغ روس میں بھجوایا مگر بجائے اس کے کہ اُسے تبلیغ کی اجازت دی جاتی اُسے قید کیا گیا۔اُسے لوہے کے تختوں کے ساتھ نہایت سختی کے ساتھ باندھ کر اور کئی کئی دن بھوکا اور پیاسا رکھ کر مارا پیٹا گیا اور اسے مجبور کیا گیا کہ وہ سور کا گوشت کھائے اور یہ مظالم برابر ایک لمبے عرصہ تک اُس پر ہوتے چلے گئے۔( حضور نے اس موقع پر مولوی ظہور حسین صاحب مجاہد روس کو کھڑے ہونے کا حکم دیا اور ارشادفرمایا) یہ وہ صاحب ہیں جنہیں مبلغ بنا کر بھیجا گیا تھا۔دو سال دو ماہ کم ان کو تاشقند ، عشق آباد اور ماسکو کے قید خانوں میں رکھا گیا اور لوہے کے تختوں کے ساتھ باندھ باندھ کر مارا گیا اور انہیں بار بار مجبور کیا گیا کہ سور کا گوشت کھاؤ یہاں تک کہ ان متواتر مظالم کے نتیجہ میں ان کی دماغی حالت خراب ہوگئی۔اس پر وہ انہیں ایران کی سرحد پر لا کر چھوڑ گئے۔وہاں کے برطانوی سفیر نے گورنمنٹ آف انڈیا کو اطلاع دی اور گورنمنٹ آف انڈیا نے مجھے تار دیا کہ آپ کے ایک مبلغ کو 83