اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 82

میں ظاہر ہو کر انسان کو اُخروی زندگی میں مستحق ثواب بناتی ہے اُس کے لئے بہت ہی کم موقع باقی رکھا گیا ہے۔بجائے اس کے کہ اُس سے ضروری حصہ دولت کا لے کر باقی حصہ کے خرچ کو اُس پر چھوڑا جائے کہ وہ اُسے جس رنگ میں چاہے صرف کرے۔اُس کی خوراک اور لباس کے سوا اُس کے پاس کچھ چھوڑا ہی نہیں گیا کہ وہ اپنی اُخروی زندگی کے لئے بھی کوئی جدو جہد کرے۔وہ روٹی کھا سکتا ہے، وہ کپڑا پہن سکتا ہے، وہ رہائش کے لئے مکان لے سکتا ہے، وہ اپنا علاج کراسکتا ہے، وہ اپنی تعلیم سے بے فکر ہو سکتا ہے مگر اُخروی زندگی کے لئے اُس کے پاس ایک پیسہ بھی چھوڑا نہیں جاتا۔گویا اُس کی چالیس پچاس سالہ زندگی کی تو فکر کی گئی ہے مگر اُس عقیدہ کے رو سے جو غیر متناہی زندگی آنے والی تھی اُس کو یونہی چھوڑ دیا گیا ہے۔یہ ایک ایسی بات ہے جسے کوئی شخص جو مذہب کی سچائی پر یقین رکھتا ہو اور اُس کے احکام پر عمل کرنا اپنی نجات کے لئے ضروری سمجھتا ہو ایک لمحہ کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتا۔مثلاً اسلام اُن مذاہب میں سے ہے جو اپنے پیروؤں کو یہ حکم دیتا ہے کہ جاؤ اور دنیا میں تبلیغ کرو، جاؤ اور لوگوں کو اپنے اندر شامل کرو کیونکہ دنیا کی نجات اسلام سے وابستہ ہے۔وہ شخص جو اسلام سے باہر ر ہے گانجات سے محروم رہے گا اور اُخروی زندگی میں ایک مجرم کی حیثیت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوگا۔تم ایک مسلمان کو یہ عقیدہ رکھنے کی وجہ سے پاگل کہہ لو، بے وقوف کہہ لو، جاہل کہہ لو بہر حال جب تک وہ اسلام کی سچائی پر یقین رکھتا ہے، جب تک وہ بنی نوع انسان کی نجات صرف اسلام میں داخل ہونے پر ہی منحصر سمجھتا ہے اُس وقت تک وہ اپنا فرض سمجھتا ہے کہ میں اپنے ہر اُس بھائی کو جو اسلام میں داخل نہیں اسلام کا پیغام پہنچاؤں، اُسے تبلیغ کروں اور اُس پر اسلام کے محاسن اس عمدگی سے ظاہر کروں کہ وہ بھی اسلام میں داخل ہو جائے۔آخر اگر یہ بنی نوع انسان کا خیر خواہ ہے، 82