اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 57

غلط خرچ کا نقصان بھی یہی ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ اُس سے فائدہ اُٹھانے سے محروم رہ جاتے ہیں اور روپیہ کو جمع کر رکھنے اور کام پر نہ لگانے سے بھی اس قسم کا نقصان ہوتا ہے۔پس نتیجہ کے لحاظ سے یہ روپیہ کا جمع کرنا اور اُسے نامناسب مواقع پر خرچ کرنا ایک ساہی ہے۔غرض جتنے محرکات دولت کے حد سے زیادہ کمانے یا اُس کو اپنے پاس جمع رکھنے کے دنیا میں پائے جاتے ہیں اسلام نے اُن سب کو رڈ کر دیا ہے۔اور درحقیقت بعض محرکات و موجبات ہی دولت کے زیادہ کمانے یا اُسے لوگوں کے لئے خرچ نہ کرنے کے ہوا کرتے ہیں۔جب ان تمام محرکات کو ناجائز قرار دے دیا جائے تو کوئی شخص اتنی دولت جمع نہیں کر سکتا جو بنی نوع انسان کی ترقی میں روک بن جائے۔مثلاً لوگ گھوڑ دوڑ کے لئے اعلیٰ درجہ کے قیمتی گھوڑے رکھتے ہیں اور ان پر لاکھوں روپیہ خرچ کر دیتے ہیں۔یا جوئے بازی پر ہزاروں روپیہ برباد کر دیتے ہیں لیکن اس تعلیم کے ماتحت جو اسلام نے بیان کی ہے ایک مسلمان ریس (RACE) کے لئے گھوڑے نہیں رکھ سکتا۔وہ سواری کے لئے تو گھوڑا رکھے گا مگر یہ نہیں کر سکتا کہ ریس (RACE) میں حصہ لینے کے لئے لاکھوں روپیہ گھوڑوں کی خرید پر خرچ کرتا چلا جائے۔جب اس قسم کے تمام محرکات جاتے رہیں گے تو یہ لازمی بات ہے کہ روپیہ کے زیادہ کمانے کی خواہش اس کے دل میں باقی نہ رہے گی۔روپیہ کی زیادہ خواہش اسی لئے پیدا ہوتی ہے کہ انسان کہتا ہے فلاں کے پاس ایک لاکھ روپیہ جمع ہے میرے پاس بھی اتنا روپیہ جمع ہونا چاہئے۔یا فلاں نے ریس کے لئے بڑے اچھے گھوڑے رکھے ہوئے ہیں میں بھی اعلیٰ درجہ کے گھوڑے خرید کر رکھوں۔یا محض مال کی محبت ہو اور انسان روپیہ کو حض روپیہ کے لئے جمع کرے مگر جب اس قسم کی تمام خواہشات سے اسلام نے منع کر دیا تو وہ نا واجب حد تک روپیہ کمانے کی فکر ہی نہیں کرے گا۔57