اسلام کا اقتصادی نظام — Page 54
کے حقوق کو تلف کر کے ناجائز فائدہ اُٹھایا جاوے۔اگر ایک دفتر بنانے کا سوال ہو اور ہزاروں لوگوں کے لئے کمروں کی ضرورت ہو تو خواہ ہمیں منزلہ مکان بنالیا جائے اور اُس میں سینکڑوں کمرے ہوں اسلام کی رو سے بالکل جائز ہو گا لیکن وہ لوگ جو بلا وجہ اپنی ضرورت سے زائد کمرے بنوا لیتے ہیں محض اس لئے کہ لوگ اُن کو دیکھیں اور تعریف کریں قرآن کریم کے رو سے وہ ایک ناجائز فعل کا ارتکاب کرتے ہیں اور اسلام اُسے اسراف قرار دیتا ہے۔قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو پکڑے گا اور اُس سے جواب طلب کرے گا کہ اُس نے کیوں وہ روپیہ جو بنی نوع انسان کی خدمت یا اُن کی ترقی کے سامانوں پر صرف ہو سکتا تھا اس رنگ میں ضائع کیا اور ملک اور قوم کی اقتصادی حالت کو نقصان پہنچایا۔دور کیوں جائیں تاج محل ہمارے گھر کی مثال ہے مجھے خود وہ بہت پسند ہے اور میں اُسے دیکھنے بھی جایا کرتا ہوں لیکن اسلامی اقتصاد کے لحاظ سے تاج محل کی تعمیر پر ناجائز طور پر روپیہ صرف کیا گیا ہے۔تاج محل آخر کیا ہے؟ ایک بہت بڑی شاندار عمارت ہے جو محض ایک عورت کی قبر پر زینت کے لئے بنائی گئی اور اُس پر کروڑوں روپیہ صرف کیا گیا۔اگر وہی روپیہ صدقہ وخیرات پر صرف کیا جاتا یا غرباء کے لئے کوئی ایسا ادارہ قائم کر دیا جاتا جس سے لاکھوں مساکین، لاکھوں یتیم ، اور لاکھوں بے کس ایک مدت دراز تک فائدہ اُٹھاتے چلے جاتے اور وہ اپنے کھانے اور اپنے پینے اور اپنے پہنے اور اپنے رہنے کے تمام سامانوں کو حاصل کر لیتے تو یہ زیادہ بہتر ہوتا۔بے شک جہاں تک عمارت کا سوال ہے، جہاں تک انجنیئر نگ کا سوال ہے تاج محل کی ہم تعریف کرتے ہیں اور اُسے دیکھنے کے لئے بھی جاتے ہیں لیکن جہاں تک حقیقت کا سوال ہے ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس قسم کی عمارتیں جو بعض افراد محض اپنے نام ونمود کے لئے یا نمائش کے لئے دنیا میں تیار کرتے ہیں 54