اسلام کا اقتصادی نظام — Page 49
خاطر تواضع کرتا ہے۔اگر تھوڑی توفیق ہوئی تو پان الا بچی سے تواضع کر دیتا ہے اور اگر زیادہ توفیق ہوئی تو صبح شام اُن کو کھانا اپنے دستر خوان پر کھلاتا ہے۔مگر اس لئے نہیں کہ وہ غریب ہیں، اس لئے نہیں کہ وہ بھوکے ہیں، اس لئے نہیں کہ وہ ہمدردی کے قابل ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ اُس کے پاس آکر بیٹھ جاتے ہیں اور مجلس میں خوشی کے ساتھ دن گزر جاتا ہے۔اسلام اس قسم کے کاموں کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔وہ فرماتا ہے مسلمان ہمیشہ لغو کاموں سے بچتے اور احتراز کرتے ہیں وہ کوئی ایسا کام نہیں کرتے اور کوئی ایسا کام اُن کو نہیں کرنا چاہئے جن کا کوئی عقلی فائدہ نہ ہو اور جس سے زندگی بے کار ہو جاتی ہو۔وہ شخص جو اپنے ماں باپ کی کمائی کھاتا ہے اور خود کوئی کام نہیں کرتا آخر اسے سوچنا چاہئے کہ اُس کے اس فعل کا اُسے کیا فائدہ ہو سکتا ہے یا اس کی قوم کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔یہ چیز تو ایسی ہے جس کا اس کی ذات کو بھی فائدہ نہیں ہو سکتا۔اُس کی قوم کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا اور دنیا کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا یہ زندگی کو محض بے کاری اور عیاشی میں ضائع کرتا ہے اور اسلام اس قسم کی بے کار زندگی کی اجازت نہیں دیتا۔اگر ایک شخص کو اپنے باپ کے مرنے کے بعد دس کروڑ رو پی بھی جائداد میں ملتا ہے تو قرآن کریم کا حکم یہی ہے کہ وہ اتنی بڑی جائداد کا مالک ہونے کے باوجود اپنے وقت کو ضائع نہ کرے بلکہ اُسے قوم اور مذہب کے فائدہ کے لئے خرچ کرے۔اگر اُسے اس قسم کی خدمات کی ضرورت نہیں جن کے نتیجہ میں اُسے روٹی میسر آئے تو وہ ایسی خدمات سر انجام دے سکتا ہے جو آنریری رنگ رکھتی ہوں۔اس طرح وہ بغیر معاوضہ لئے اپنے ملک یا اپنی قوم یا اپنے مذہب کی خدمت کر کے اپنے وقت کو بھی ضائع ہونے سے محفوظ رکھ سکتا ہے اور اپنے اوقات کا بھی صحیح استعمال کر کے اپنے آپ کو نافع الناس وجود بنا سکتا ہے۔اسی طرح اسلام یہ ہدایت دیتا ہے کہ تم وہ کھیلیں مت کھیلو جو 49