اسلام کا اقتصادی نظام — Page 36
آپس میں ملے چلے آتے ہیں۔روس میں سائبیریا کی آبادی غلاموں یا سیاسی قیدیوں ہی کی رہین منت تھی۔اسی طرح امریکہ کی آبادی غلاموں یا سیاسی قیدیوں ہی کی رہین منت تھی۔وہ اپنے علاقوں کو کبھی خود آباد نہیں کر سکتے تھے۔لاکھوں لاکھ غلام وہ مغربی افریقہ سے لائے اور وہ امریکہ کے بے آباد علاقوں کو آباد کر گئے۔آج امریکہ اپنی دولت پر نازاں ہے، اپنی تجارت اور اپنی صنعت پر نازاں ہے مگر امریکہ کی یہ دولت اور امریکہ کی آبادی رہین منت ہے اُن حبشی غلاموں کی جن کو وہ مغربی افریقہ سے پکڑ کر لائے۔اسی طرح یونان اور روما کی تاریخ بتاتی ہے کہ اُن کی آبادی بھی غلاموں کی خدمات کی رہین منت ہے ، مصر کی تاریخ بھی بتاتی ہے کہ اس کی آبادی غلاموں کی خدمات کی وجہ سے ہوئی۔فرانس اور سپین کی تاریخ بھی بتاتی ہے کہ اُن کی ترقی اُن خدمات کی رہین منت تھی جو آج سے دو تین سو سال پہلے اُن ممالک میں غلاموں نے سر انجام دیں اور جنہوں نے اُن کی اقتصادی حالت کو ترقی دے کر کہیں سے کہیں پہنچادیا۔پس غلامی اور اقتصادی مسائل چونکہ باہم لازم وملزوم ہیں اس لئے میں نے بتایا ہے کہ اسلام کا نظام کیسا کامل ہے کہ اُس نے شروع سے ہی غلامی پر تبررکھ دیا اور کہہ دیا کہ اس کے ذریعہ جو ترقی ہوگی وہ کبھی شریفانہ اور باعزت ترقی نہیں کہلا سکتی۔36