اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page iv of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page iv

اسلام کا اقتصادی نظام ہوئے ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے تعلقات بہتر ہورہے ہیں۔جماعت کے بہت سے معزز دوستوں سے مجھے تبادلۂ خیالات کا موقع ملتا رہتا ہے۔یہ جماعت اسلام کی وہ تفسیر کرتی ہے جو اس ملک کے لئے نہایت مفید ہے۔پہلے تو میں سمجھتا تھا اور یہ میری غلطی تھی کہ اسلام اپنے قوانین میں صرف مسلمانوں کا ہی خیال رکھتا ہے غیر مسلموں کا کوئی لحاظ نہیں رکھتا مگر آج حضرت امام جماعت احمدیہ کی تقریر سے معلوم ہوا کہ اسلام تمام انسانوں میں مساوات کی تعلیم دیتا ہے اور مجھے یہ ٹن کر بہت خوشی ہے۔میں غیر مسلم دوستوں سے کہوں گا کہ اس قسم کے اسلام کی عزت واحترام کرنے میں آپ لوگوں کو کیا عذر ہے؟ آپ لوگوں نے جس سنجیدگی اور سکون سے اڑھائی گھنٹہ تک حضرت امام جماعت احمدیہ کی تقریر سُنی اگر کوئی یورپین اس بات کو دیکھتا تو حیران ہوتا کہ ہندوستان نے اتنی ترقی کر لی ہے۔جہاں میں آپ لوگوں کا شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ آپ لوگوں نے سکون کے ساتھ تقریر کو سنا وہاں میں اپنی طرف سے اور آپ سب لوگوں کی طرف سے حضرت امام جماعت احمدیہ کا بار بار اور لاکھ لاکھ شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ اُنہوں نے اپنی نہایت ہی قیمتی معلومات سے پر تقریر سے ہمیں مستفید فرمایا۔تاریخ احمدیت جلد ۱۰ صفحه ۴۹۶،۴۹۵) سامعین پر اس تقریر کے اثر کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس تقریر کو حاضرین نے ایسے شوق سے سنا کہ اتنے لمبے عرصہ تک لوگ اس طرح بیٹھے رہے کہ گویا اُن کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ایک پروفیسر تو اس تقریر کو سن کر رو پڑے اور بعض کمیونزم کے حامی طلباء نے اس خیال کا اظہار کیا کہ وہ اسلامی سوشلزم کے قائل ہو گئے ہیں اور اب اسے صحیح اور درست تسلیم کرتے ہیں۔یونیورسٹی اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کے