اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page iii of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page iii

اسلام کا اقتصادی تعارف کتاب حضرت خلیفہ المسح الثانی نے یہ معرکۃ الآراء اور انقلاب انگیز تقریر مؤرخہ ۲۶ فروری ۱۹۴۵ء کو احمد یہ ہوسٹل واقع ۳۲ ڈیوس روڈ لاہور میں احمدیہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام مختلف مذاہب کے لوگوں کے اجتماع میں ارشاد فرمائی۔یہ تقریر تقریباً اڑھائی گھنٹے تک جاری رہی۔اس تقریر میں احمدی احباب کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں مسلم اور غیر مسلم معززین بھی شامل تھے جن کی اکثریت اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ طبقہ اور پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسرز اور طلباء سے تعلق رکھتی تھی۔تقریر کے دوران پروفیسرز ، وکلاء اور دیگر اہلِ علم دوست کثرت سے نوٹ لیتے رہے۔اس تقریر کی صدارت مسٹر رامچندر مچندہ صاحب ایڈووکیٹ ہائی کورٹ لاہور نے کی۔تقریر کے خاتمہ پر صاحب صدر نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا :۔میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے ایسی قیمتی تقریر سنے کا موقع ملا اور مجھے اس بات سے خوشی ہے کہ تحریک احمدیت ترقی کر رہی ہے اور نمایاں ترقی کر رہی ہے۔جو تقریر اس وقت آپ لوگوں نے سُنی ہے اُس کے اندر نہایت قیمتی اور نئی نئی باتیں حضرت امام جماعت احمدیہ نے بیان فرمائی ہیں مجھے اس تقریر سے بہت فائدہ ہوا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ لوگوں نے بھی ان قیمتی معلومات سے فائدہ اُٹھایا ہوگا۔مجھے اس بات سے بھی خوشی ہے کہ اس جلسہ میں نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی شامل