اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 32

غلاموں کے ذریعہ سے ملکی طور پر تجارتی یا نعتی ترقی کرنے کا کہیں پتہ نہیں چلتا۔اسلامی تعلیم کے مطابق جنگی قیدیوں کی رہائی اب رہے جنگی قیدی۔سوان کے بارے میں اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ إِمَّا مَنَّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء یعنی جب لڑائی میں تمہارے پاس قیدی آئیں تو تمہارے دلوں میں یہ سوال پیدا ہوگا کہ آب ہمیں ان کے متعلق کیا کرنا چاہئے سویا درکھو ہمارا حکم یہ ہے کہ إِمَّا مَنَّا بعد یا تو احسان کر کے انہیں بلا کسی تاوان کے آزاد کر دو و إنما فداء یا پھر تاوان لے کر انہیں رہا کر دو۔اِن دوصورتوں کے سوا کوئی اور صورت تمہارے لئے جائز نہیں۔بہر حال تمہارا فرض ہے کہ تم ان دو میں سے کوئی ایک صورت اختیار کرلو۔یا تو یونہی احسان کر کے اُن کو رہا کر دو اور سمجھ لو کہ تمہارے اس فعل کے بدلہ میں خدا تعالیٰ تم سے خوش ہوگا اور اگر تم اقتصادی مشکلات کی وجہ سے احسان نہیں کر سکتے تو وہ تاوان جو عام طور پر حکومتیں وصول کیا کرتی ہیں وہ تاوان لے کر قیدیوں کو رہا کر دو۔لیکن چونکہ ایسا بھی ہوسکتا تھا کہ ایک شخص فدیہ دینے کی طاقت اپنے اندر نہ رکھتا ہو اور حکومت یا اُس کے رشتہ دار بھی اُس کو چھڑانے کی کوئی کوشش نہ کریں اور اس کے ساتھ ہی قیدی کے نگر ان کی بھی یہ حالت ہو کہ وہ بغیر فدیہ کے اُسے آزاد کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اس لئے اسلام نے اس کا یہ علاج بتایا کہ وہ غلام تاوانِ جنگ کی قسطیں مقرر کر کے آزاد ہو جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَالَّذِيْنَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا وَاتُوهُمْ مِنْ مَّالِ اللَّهِ الَّذِی أَتَاكُمْ یعنی اگر کوئی ایسا قیدی ہو جسے تم احسان کر کے نہ چھوڑ سکو اور اُس کے رشتہ دار بھی اس کا فدیہ نہ دے سکیں تو اس صورت میں ہماری یہ ہدایت ہے کہ اگر وہ آزاد ہونا چاہے تو وہ نگران سے کہہ دے کہ میں 32