اسلام کا اقتصادی نظام — Page 27
ہوتے ہیں جو باقاعدہ پروٹسٹ کرتے ہیں۔مظاہرے کرتے ہیں اور وفد بنا بنا کر حکومت کے پاس پہنچتے ہیں یا امراء کے پاس جاتے ہیں اور اُن سے امداد کے طالب ہوتے ہیں۔ایسے مساکین کو تو لوگ پھر بھی کچھ دے ہی دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ہم تو تم سے اس قدر ہمدردی اور محبت کی امید رکھتے تھے کہ وہ مسکین جومٹی پر گرا پڑا ہے، جو جنگل میں اکیلا بے کس اور بے بس پڑا ہے جس میں مظاہرہ کرنے کی بھی ہمت نہیں ، جس میں کسی کے دروازے تک پہنچنے کی بھی طاقت نہیں، نہ وہ ٹریڈ یونین کا ممبر ہے نہ کسی اور ایسی مجلس کا جو اپنے حقوق کیلئے شور مچاتی ہے، وہ بیمار، کمز ور ور نحیف الگ ایک گوشتی تنہائی میں پڑا ہوا ہے، اُس کا دنیا میں کوئی سہارا نہیں، معاش کا اُس کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ، وہ بے بس اور بیکس نہایت کس مپرسی کی حالت میں پڑا ہوا ہے اور وہ اپنے اندر اتنی طاقت بھی نہیں رکھتا کہ کسی کے دروازہ پر چل کر جا سکے تمہارا فرض تھا کہ تم اُس سہارے کے محتاج کے پاس جاتے اور اُس خاک مذلت پر پڑے ہوئے مسکین کی خبر گیری کرتے ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا پھر یہ شخص اپنی ہمدردی اور اپنی محبت اور اپنے حسن سلوک میں اس قدر ترقی کرتا کہ جب وہ یہ سب کچھ کر چکتا تو ہم اُس سے یہ امید رکھتے کہ وہ یہ نہ کہتا کہ میں نے فلاں غریب کی پرورش کی، میں نے فلاں مسکین کی خبر گیری کی ، بلکہ وہ خدا کے حضور نہایت عجز اور انکسار کے ساتھ یہ عرض کرتا کہ اے میرے رب ! میں نے تیرے حکم کو پورا کرنے کی کس قدر کوشش کی ہے۔مگر میں نہیں کہہ سکتا کہ میں نے اس حکم کو صحیح طور پر ادا بھی کیا ہے یا نہیں۔گویا بجائے احسان جتانے کے تم مومن بنتے اور سمجھتے کہ ہم نے جو کچھ کیا ہے کسی پر احسان نہیں کیا۔اپنے مہربان آقا کے حکم کو پورا کیا ہے اور وہ بھی معلوم نہیں کہ ہم نے اس کے عائد کردہ فرض کو صحیح طور پر ادا بھی کیا ہے یا نہیں وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ پھر اس سے بھی ترقی کر 27