اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 14

گزرنے کے بعد بھی وہ لوگ جو اُس کے آقا پر حملہ کرنے سے نہیں چوکتے جب عمر کی خدمات کا ذکر آتا ہے تو کہتے ہیں۔بے شک عمر اپنے کارناموں میں ایک بے مثال شخص تھا۔وہ تمام خدمات خود عمر کی نگاہ میں بالکل حقیر ہو جاتی ہیں اور وہ تڑپتے ہوئے کہتا ہے اللهُمَّ لَا عَلَى وَلالي اے میرے رب ! ایک امانت میرے سپرد کی گئی تھی۔میں نہیں جانتا کہ میں نے اس کے حقوق کو ادا بھی کیا ہے یا نہیں۔اس لئے میں تجھ سے اتنی ہی درخواست کرتا ہوں کہ تو میرے قصوروں کو معاف فرمادے اور مجھے سزا سے محفوظ رکھ۔ہر چیز کیلئے اچھے ماحول کی ضرورت یہ ماحول میں نے اس لئے بیان کیا ہے کہ کوئی چیز اچھے ماحول کے بغیر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔اچھی سے اچھی گٹھلی لو اور اُسے ایسی زمین میں دباد و جو اُس کے مناسب حال نہ ہو یا گنٹھلی کو گانے کی قابلیت اپنے اندر نہ رکھتی ہوتو وہ کبھی اچھا درخت پیدا نہیں کرسکتی۔لیکن اگر ماحول اچھا ہو تو معمولی اور ادنی بیج بھی نشو نما حاصل کر لیتا ہے۔پس یہ وہ ماحول ہے جو اسلام نے پیش کیا اور ایسے ہی ماحول میں پبلک کے مفید مطلب اقتصادی نظام چل سکتا ہے۔دنیا میں تین قسم کے اقتصادی نظام اس ماحول کے بیان کرنے کے بعد اب میں یہ بتاتا ہوں کہ دنیا میں تین قسم کے اقتصادی نظام ہوتے ہیں۔ایک نظام غیر آئینی ہوتا ہے یعنی ہم اُس کا نام اقتصادی نظام محض بات کو سمجھنے کے لئے رکھ دیتے ہیں ورنہ حقیت یہ ہے کہ بعض تو میں اور حکومتیں دنیا میں ایسی ہیں جنہوں نے کبھی بھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ انہوں نے اپنے اقتصادی نظام کو کس طرح 14