اسلام کا اقتصادی نظام — Page 15
چلانا ہے۔جس طرح انسان بعض دفعہ رستہ میں چلتے ہوئے کسی چیز کو اُٹھالیتا ہے اسی طرح ان لوگوں کے سامنے اگر اقتصادی ترقی کے لئے کوئی قومی ذریعہ آجائے تو وہ اسے اختیار کر لیتے ہیں، فردی ذریعہ آجائے تو اُسے اختیار کر لیتے ہیں۔کوئی معین اور مقررہ پالیسی ان کے سامنے نہیں ہوتی۔دوسرا نظام قومی ہوتا ہے۔یعنی بعض قو میں دنیا میں ایسی ہیں جو صرف قومی اقتصادی نظام کو اختیار کرتی ہیں اور وہ ملک کے نظام کو ایسے رنگ میں چلاتی ہیں جس سے بحیثیت مجموعی اُن کی قوم کو فائدہ ہو۔تیسر ا نظام انفرادی ہوتا ہے جس میں افراد کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے اپنے طور پر ملک کی اقتصادی حالت کو درست کرنے اور اُسے ترقی دینے کی کوشش کریں۔مزدوروں کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لئے جدو جہد کریں اور سرمایہ داروں کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لئے جد و جہد کریں۔اسی طرح ملازموں کو حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے افسروں سے تنخواہوں وغیرہ کے متعلق بحث کر کے فیصلہ کریں اور افسروں کو حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ ملازموں کے متعلق قواعد وضع کریں۔گویا اس نظام میں انفرادیت پر زور دیا جاتا ہے۔یہی تین قسم کے اقتصادی نظام اس وقت دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ایک بے قانون، دوسرا قومی اور تیسرا انفرادی۔یعنی بعض میں کوئی بھی آئین نہیں بعض میں قومی کاروبار پر بنیاد ہوتی ہے اور بعض میں انفرادی کاروبار پر۔اسلام غیر آئینی نظام کو تسلیم ہی نہیں کرتا بلکہ وہ ایک آئینی نظام کو قائم کرتا اور اُس کے ماتحت چلنے کی لوگوں کو ہدایت دیتا ہے۔وہ ہر چیز کو حکمت اور دانائی کے ماتحت اختیار کرنے کا قائل ہے۔وہ اس بات کا 15