اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 135

لئے آئے تھے۔جب اتنے بڑے لیڈروں کو اُس لیڈر نے اکٹھے دیکھا تو انہیں بہت بُرا لگا کہ ہندوستان کے اتنے لیڈر ہیں اور انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ بڑے معاملات اتنے بڑے اجتماعوں میں طے نہیں ہو سکتے بہتر ہوگا کہ ہم چند لیڈروں کے لیڈر ( We Leaders of Leaders) اس میں بیٹھ کر فیصلہ کر کے ان لوگوں کو سنا دیں یہی حال روس کا ہے۔زید اور بکر کے متعلق تو کہا جاتا ہے کہ اُن میں مساوات ہونی چاہئے مگر جب حکومت کا سوال آتا ہے تو کہا جاتا ہے ہم تین بڑی حکومتیں مل کر جو فیصلہ کریں گی وہی تمام اقوام کو ماننا پڑے گا۔ان کا حق نہیں کہ وہ ہمارے ساتھ شامل ہوں یا ہماری کانفرنس میں شریک ہوں۔آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ سوائے اس کے کہ روس کے پاس تو ہیں زیادہ ہیں اور دوسروں کے پاس تو پیں کم ہیں، روس کے پاس ٹینک اور ہوائی جہاز اور فوجیں زیادہ ہیں لیکن بیلجیئم ،فرانس اور ہالینڈ کے پاس کم ہیں۔اگر سامانِ حرب کی کثرت کی وجہ سے روس اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اُس کی آواز کو دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ وقعت دی جائے اور وہ دوسرے چھوٹے ملکوں کے برابر ہونے کے لئے تیار نہیں ہے تو وہ گل کو اُن کو اپنے اقتصادی پروگرام میں شامل کس طرح کرے گا۔جو ملک اس بات کے لئے تیار نہیں ہے کہ وہ دوسرے ملکوں کی رائے کو کوئی وقعت دے یا ان کو مجلس صلح میں بٹھائے وہ اُن کو کھانا اور کپڑا دینے کے لئے کس طرح تیار ہوگا۔یقیناً جب روس کی انڈسٹری بڑھے گی تو وہ اپنی منڈیوں کے لئے منڈیٹس (MANDATES) چاہے گا برابر کے شریک نہیں۔غرض سرمایہ داری مردہ باد کا کوئی سوال نہیں یہ محض وہم ہے جو لوگوں کے اندر پایا جاتا ہے۔اصل سلوگن یہ ہے کہ الف کی سرمایہ داری مُرده با داور ملک روس کی سرمایہ داری زندہ باد۔اور اس کا انجام تم خود سوچ لو۔الف اور ب کی سرمایہ داری کا تو لوگ مقابلہ کر سکتے تھے 135)