اسلام کا اقتصادی نظام — Page 132
سے پہلے نہیں ملتی۔اس کا مقابلہ ان دو ہی صورتوں سے ہوسکتا ہے۔(1) سب دنیا ایک ہی نظام میں پروئی جائے یعنی سب ملک روسی حکومت کا جزو بن جائیں اور اس طرح آئندہ غیر مساوی مقابلہ کو بند کر دیں۔مگر کیا کمیونزم میں کوئی ایسے اشتراک کی گنجائش ہے؟ یا کیا غیر ملکوں کے لوگ مثلاً انگلستان، امریکہ، فرانس کے لوگ اس امر کے لئے تیار ہیں کہ اس آئندہ آنے والے خطرہ سے بچنے کے لئے اپنے آپ کو روسی حکومت میں شامل کر دیں؟ اور کیا اس کی کوئی معقول امید ہے کہ اگر وہ ایسا کر بھی دیں تو وہ روسیوں کے ساتھ ہر جہت سے مساوی حقوق حاصل کرلیں گے؟ اگر یہ دونوں باتیں ناممکن ہیں جیسا کہ میرے نزدیک ہر عقلمند انسان انہیں ناممکن کہے گا تو پھر یہ علاج تو بے کار ہوا۔(۲) دوسرا ممکن علاج اس خطرہ کا یہ ہو سکتا ہے کہ سب دنیا کے ملک کمیونزم سسٹم کے مطابق الگ الگ نظام قائم کر لیں۔مگر سب دنیا کمیونزم میں آجائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ چند حکومتی ٹرسٹ ایک دوسرے کا مقابلہ کریں گے اور وہ حالت موجودہ حالت سے بہت زیادہ خطر ناک ہو جائے گی۔اس تبدیلی سے صرف یہ فرق پڑے گا کہ پہلے تو ہندوستان کے تاجر کا رشیا کے تاجر سے مقابلہ ہوا کرتا تھا مگر پھر ہندوستانی حکومت کے صنعتی ادارہ کا مقابلہ روسی حکومت کے صنعتی ادارہ سے ہوگا۔گو یا اب تو جنگ کبھی کبھار ہوتی ہے اس وقت ایک مستقل جنگ دنیا میں جاری ہو جائے گی۔ہر تجارتی قافلہ کا افسر در حقیقت ایک سفیر ہوگا اور ہر تجارتی مال اپنی حفاظت کے لئے اپنے ملک کی فوج اور اُس کا بیڑا اساتھ رکھتا ہوگا۔تجارتی نزاع تاجروں میں نہیں حکومتوں میں ہوں گے اور لین دین کے لئے کمپنیوں کے مینیجر نہیں بلکہ حکومتوں کے وزیر خط و کتابت کریں گے۔اس نظام میں کسی چھوٹے ملک یا غیر منظم کو کوئی جگہ ہی نہیں مل سکتی۔چھوٹے ملک اور غیر منظم ملک اس نظام کے جاری ہونے (132)