اسلام کا اقتصادی نظام — Page 128
کوئی نہ کوئی بہانہ پیدا کر ہی لیا کرتا ہے۔جب روس کے پاس طاقت آئی تو اس نے بھی ڈیفنس آف سائبیریا، ڈیفنس آف لینن گریڈ ، ڈیفنس آف وائٹ رشیا اور ڈیفنس آف یوکرین کے بہانہ سے کئی ممالک کی آزادی کو سلب کر لیا۔جب سیاسیات میں روس کی یہ حالت ہے تو اقتصادیات میں یہ کس طرح تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ روس دوسرے ممالک کے ساتھ مساوات کا سلوک کرنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔اگر کہو کہ نہیں ہم اقتصادیات کے متعلق نہیں سمجھ سکتے کہ روس ایسا کرے گا سیاسی صورت الگ ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ دور کیوں جاتے ہو مساوات پر زور دینے والی کمیونزم کی یہ حالت ہے کہ وہ آج ایران کے تیل پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔آخر سوال یہ ہے کہ کیا ایران کیلئے اپنے چشموں سے فائدہ اُٹھانا جائز نہیں کہ ایک دوسرا ملک اُس سے مطالبہ کرتا ہے کہ تیل کے چشموں سے اُسے فائدہ اُٹھانے دیا جائے۔جب ایران کو خود اپنے تیل کے چشموں کی ضرورت ہے، جب اُس کے اپنے آدمی بھوکے مر رہے ہیں تو روس نے اُس سے یہ کیوں مطالبہ کیا؟ اگر مساوات اور بنی نوع انسان کی ہمدردی مقصود تھی تو کیوں ایران کو بغیر شود کے روپیہ نہ دے دیا کہ اپنے تیل کے چشموں کو کھودو اور اُن سے اپنے ملک کی حالت کو درست کرو۔کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ طاقت حاصل ہونے کے نتیجہ میں روس اب یہ چاہتا ہے کہ ایران سے اُس کے تیل کے چشمے بھی چھین لے اور خود اُن پر قابض ہو جائے۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ انگریزوں نے بھی تو ایران کے تیل کے چشموں پر قبضہ کیا ہوا ہے۔میرا جواب یہ ہے کہ انہوں نے بھی اچھا نہیں کیا مگر میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر انگریزوں نے اچھا نہیں کیا تو روس نے بھی اچھا نہیں کیا۔تم اُس کو بھی گالیاں دو اور اس کو بھی بُرا بھلا کہو مگر یہ کیا کہ انگریز ایک کام کریں تو انہیں برا بھلا کہا جائے اور ویسا ہی کام روسی کریں تو انہیں کچھ نہ کہا جائے بلکہ اُن کی تعریف کی جائے۔اگر انگریزوں نے ابادان کے (128)