اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 122

کہ جب وہ دن آئے گا تو کیا اُس وقت روس کی وہی پالیسی نہیں ہوگی جو اب بڑے بڑے تاجروں کی ہوتی ہے؟ اور کیا وہ اس مال کو فروخت کرنے کیلئے وہی طریقے اختیار نہیں کرے گا جو امریکہ اور انگلستان کے بڑے بڑے تاجر اختیار کرتے ہیں؟ یعنی کیا وہ کسی نہ کسی طرح دوسرے ممالک کو مجبور نہ کرے گا کہ وہ اُس سے مال خریدیں تا کہ اُس کے اپنے ملک کے مزدور بیکار نہ رہیں اور اُس کی صنعتی اور اقتصادی ترقی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔جیسے ہندوستان کی سیاسی آزادی کا سوال آئے تو انگلستان کے بڑے بڑے مدبر ہاؤس آف کامنز میں دُھواں دھار تقریریں کرتے ہیں لیکن جب اقتصادی ترقی کا سوال آجائے تو فوراً اُس کے اقتصادی اکا بر کہنے لگتے ہیں کہ برطانوی مفاد کی حفاظت کر لی جائے۔یہی حالت روس کی ہوگی لیکن جہاں انگلستان اور امریکہ کا مقابلہ دوسرے ملکوں سے صرف تاجروں کے زور پر ہو گا وہاں روس کا مقابلہ دوسرے ملکوں کے تاجروں کے ذریعہ سے نہ ہوگا بلکہ سارے روس کے اشتراکی نظام کا مقابلہ دوسرے ملکوں کے انفرادی تجار سے ہوگا۔اور جس دن روس میں یہ حالت پیدا ہوئی اُس وقت روس یہ نہیں کہے گا کہ چلو ہم اپنے کارخانے بند کر دیتے ہیں، ہم اپنے مزدوروں کو بریکا ررہنے دیتے ہیں مگر ہم غیر ملکوں میں اپنے مال کو فروخت نہیں کرتے بلکہ اُس وقت وہ اپنے ہمسایہ ممالک کو مختلف ذرائع سے مجبور کرے گا کہ وہ اس سے چیزیں خریدیں اور حق یہ ہے کہ وہ ان تمام ذرائع کو استعمال میں لائے گا جو بڑے بڑے سرمایہ دار تاجر اپنے استعمال میں لاتے ہیں اور چونکہ روس کی صنعت حکومت کے ہاتھ میں ہے اس لئے حکومت کا سیاسی زور بھی اس کے ساتھ گلی طور پر شامل ہوگا۔روس اس وقت بہت بڑی طاقت ہے۔حکومت اُس کے ہاتھ میں ہے، رُعب اور دبدبہ اس کو حاصل ہے، ایسی حالت میں اس کا مقابلہ چھوٹے ملک کب کر سکیں گے بلکہ (122)