اسلام کا اقتصادی نظام — Page 116
مظالم کی وجہ سے ہے۔جب پچاس ساٹھ سال کا زمانہ گزر گیا، جب زار کے ظلموں کی یاد دلوں سے مٹ گئی ، جب اُس کے نقوش دُھندلے پڑ گئے اگر اُس وقت بھی یہ نظام کامیاب رہا تب ہم سمجھیں گے کہ کمیونزم واقعہ میں ماں کی محبت اور باپ کے پیار اور بہن کی ہمدردی کو کچلنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔لیکن دنیا یا در کھے یہ محبتیں کبھی کچلی نہیں جاسکتیں۔ایک دن آئے گا کہ پھر یہ محبتیں اپنا رنگ لائیں گی پھر دنیا میں ماں کو ماں ہونے کا حق دیا جائے گا، پھر باپ کو باپ ہونے کا حق دیا جائے گا، پھر بہن کو بہن ہونے کا حق دیا جائے گا اور پھر یہ گم گشتہ محبتیں واپس آئیں گی۔لیکن اس وقت یہ حالت ہے کہ کمیونزم انسان کو انسان نہیں بلکہ ایک مشین سمجھتا ہے۔نہ وہ بچہ کے متعلق ماں کے جذبات کی پرواہ کرتا ہے، نہ وہ باپ کے جذبات کی پرواہ کرتا ہے، نہ وہ بہن کے جذبات کی پرواہ کرتا ہے، نہ وہ اور رشتہ داروں کے جذبات کی پرواہ کرتا ہے، وہ انسان کو انسان نہیں بلکہ ایک مشینری کی حیثیت دے رہا ہے مگر یہ مشینری زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی۔وقت آئے گا کہ انسان اس مشینری کو توڑ پھوڑ کر رکھ دے گا اور اُس نظام کو اپنے لئے قائم کرے گا جس میں عائلی جذبات کو اپنی پوری شان کے ساتھ برقرار رکھا جائے گا۔دماغی قابلیت کی بے قدری (9) نواں نقص اس نظام میں یہ ہے کہ اس میں دماغ کی قدر نہیں اس لئے مجبوراً اعلیٰ دماغ کے لوگ روس میں سے باہر نکلیں گے اور اپنی دماغی ایجادات کی قیمت دنیا سے طلب کریں گے۔بالشوزم کے نزدیک ہاتھ کا کام اصل کام ہے وہ دماغی قابلیتوں کو ہاتھ کے کام کے بغیر بے کار محض قرار دیتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہاتھ کا کام بھی کام ہے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ دماغی کام بھی اپنی ذات میں بہت بڑی اہمیت رکھتے ہیں اور پھر 116)