اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 114

اور سوائے ابتدائی انسانی ضروریات کے خرچ کے انہیں اور کچھ نہ دیا جائے۔یہ نظریہ اپنی ذات میں اچھا ہو یا برا سوال یہ ہے کہ کمیونزم جبر کو جائز بجھتی ہے اور اس سے کام لیتی ہے اور بجائے اس کے کہ آہستہ آہستہ ترغیب اور تربیت سے لوگوں کی عادات درست کی جائیں اور اپنے سے کمزوروں پر رحم کی عادت ڈالی جائے اور غرباء کی محبت اور اُن سے مساوات کا خیال اُن سے اونچے طبقہ کے لوگوں کے دلوں میں ڈالا جائے کمیونزم جبر کی طرف مائل ہوتی ہے اور اس کی تعلیم دیتی ہے اور اُس نے برسراقتدار آتے ہی یکدم آسودہ حال لوگوں کی دولت کو چھین لیا اور اُن کی تمام جائدادوں کو اپنے قبضہ میں کرلیا۔یہ ظاہر ہے کہ ایسے لوگ جن کو شاہی محلات میں سے نکال کر چوہڑوں کے گھروں میں بٹھا دیا جائے اُن کے دلوں میں جتنا بھی اس تحریک کے متعلق بغض پیدا ہو کم ہے۔یہی وجہ ہے کہ انہیں اس تحریک سے کوئی ہمدردی نہیں بلکہ وہ اس سے انتہائی طور پر بغض رکھتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں بے شک اسلام نے بھی اُمراء سے اُن کی دولت لی ہے مگر جبر سے نہیں بلکہ پہلے انہیں وعظ کیا، پھر دولت کے محرکات کو مٹایا، پھر اُن کی ضروریات کو محدود کیا، پھر انہیں زکوۃ اورصدقہ وغیرہ احکام کا قائل کیا اور بالآخر ان تدابیر کے باوجود جو دولت اُن کے ہاتھوں میں رہ گئی اُسے اُن کی اولادوں اور رشتہ داروں میں تقسیم کر دیا۔اس طرح دولت اسلام نے بھی لے لی اور کمیونزم نے بھی مگر کمیونزم نے جبر سے کام لے کر امراء سے اُن کی دولت لی اور اسلام نے محبت سے اُن کی دولت لی۔اس جبر کا یہ نتیجہ ہے کہ غیر ممالک میں ایک بہت بڑا عنصر اُن اُمراء کا موجود ہے جو روس کے خلاف ہیں کیونکہ کمیونزم نے اُن کی دولت کو چھین لیا اور انہیں تخت شاہی سے اُٹھا کر خاک مذلت پر گرادیا۔کمیونسٹ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ آجکل اس تحریک کے خلاف کسی ملک میں جوش