اسلام کا اقتصادی نظام — Page 113
جائے جس کا بنیادی اصول تبادلۂ اشیاء ہو نہ کہ کاغذی روپیہ کی مصنوعی قیمت پر۔جرمنی نے گزشتہ جنگ کے بعد ایکسچینج (EXCHANGE) میں سیاسی دخل اندازی کر کے اپنے کاغذی روپیہ کو اس قدرستا کر دیا کہ سب دنیا کی دولت اس طرف کھنچی چلی آئی اور جب کافی سرمایہ غیر ملکوں سے تجارت کرنے کے لئے اُس کے پاس جمع ہو گیا تو اُس نے اپنے کاغذی سکہ کو منسوخ کر دیا اور اس طرح تمام دنیا کے ممالک میں بہت کم خرچ سے بہت بڑی رقوم غیر ملکی سکوں کی اپنی آئندہ تجارت کے لئے جمع کر لیں۔اگر بارٹر سسٹم ( تبادلہ اشیاء ) پر بین الاقوامی تجارت کی بنیاد ہوتی تو جرمنی اس طرح ہر گز نہ کر سکتا تھا۔روس نے بھی جرمنی کی نقل میں ایکھینچ کو بہت گرا دیا لیکن بوجہ جرمنی جیسا ہوشیار نہ ہونے کے اور بوجہ صنعتی تنظیم نہ ہونے کے اس نے فائدہ نہ اُٹھایا در حقیقت مصنوعی شرح تبادلہ ایک زبر دستوں کا ہتھیار ہے جس سے وہ کمزور قوموں کی تجارت کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور غیر طبعی طریقوں سے تجارت کے بہاؤ کو اپنی مرضی کے مطابق جدھر چاہتے ہیں لے جاتے ہیں۔روس نے اس نظام کو تسلیم کر لیا ہے اور اس طرح ملکی کیپیٹلزم کی بنیاد کو قائم رکھا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جوں جوں روی صنعت و حرفت مضبوط ہوگی کمیونزم زیادہ سے زیادہ اس ہتھیار سے کام لے گی اور کمزور ممالک کی تجارتوں کو اپنے مطلب اور اپنے فائدہ کے لئے استعمال کرے گی اور اس طرح گو مادی دولت کو جمع کر لے گی لیکن اصولی طور پر خود اپنے اصول کو توڑنے والی اور غریب اور کمزور ممالک پر ظلم کر نیوالی ثابت ہوگی۔کمیونزم کا اقتصادیات میں جبر سے کام لینا (۷) ساتویں اس نظام کے اقتصادی حصہ کو چلانے کیلئے جبر سے کام لیا جاتا ہے جو آخر ملک کے لئے مضر ثابت ہوگا۔کمیونزم کہتی ہے کہ دولت مندوں کی دولت لوٹ لی جائے 113)