اسلام کا اقتصادی نظام — Page 112
کے سکوں کی متبادل قیمتوں کی تعیین ) دو ملکوں کی تجارت کے طبعی توازن پر نہیں رہا بلکہ کمزور ملکوں کے مقابل پر تو بنکوں کے ہاتھ میں اُس کی کنجی ہے۔اور طاقتور ملکوں کی شرح مبادلہ خود حکومتیں مقرر کرتی ہیں اور قیمت کی تعیین میں تجارت موجودہ کے علاوہ یہ غرض مدنظر ہوتی ہے کہ کس ملک سے کس قدر آئندہ تجارت کرنا اس حکومت کے مقصود ہے۔ہمیشہ شرح تبادلہ پر غریب ملک شور مچاتے رہتے ہیں لیکن چونکہ اُن کے پاس جواب دینے کے لئے جس طاقت کی ضرورت ہوتی ہے وہ موجود نہیں ہوتی اس لئے خاموش ہو جاتے ہیں اور اس طرح زبر دست ملک کمزور ملک کو تجارتی طور پر کمزور کر دیتا ہے حالانکہ تبادلہ شرح ایک بناوٹی اصول ہے وہ اصول جس پر دو ملکوں کے تجارتی تعلقات کی بنیاد قائم ہونی چاہئے تبادلۂ اشیاء ہے یا تبادلۂ قیمت یعنی سونا چاندی۔لیکن بجائے اشیاء کے تبادلہ یا سونے چاندی پر تجارت کی بنیا درکھنے کے ایکسچینج ریٹ پر تجارت کی بنیا درکھ دی گئی ہے جس کی وجہ سے غیر متمدن ممالک بنکوں کے ہاتھوں پر پڑ گئے ہیں اور متمدن ممالک میں بنکوں میں تجارت سیاست کے تابع چلی گئی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایھنچ کی وجہ سے تجارت میں سہولت پیدا ہو جاتی ہے اور موجودہ زمانہ کی بڑھی ہوئی تجارت بغیر کسی آسان طریق تبادلہ کے سہولت سے جاری نہیں رکھی جاسکتی لیکن یہ ضروری نہیں کہ شرح تبادلہ کو سیاسیات کے تابع رکھا جائے اور کمزور ملکوں کے ٹوٹنے کا ذریعہ بنایا جائے بلکہ اگر غور کیا جائے تو سابق بارٹر سسٹم کو جس میں اشیاء کا اشیاء کے مقابلہ میں تبادلہ ہوتا ہے نہ کہ ایکسچینج ریٹ کے اصول پر، ایسے طریق پر ڈھالا جاسکتا ہے کہ موجودہ زمانہ کی ضرورتوں کے مطابق وہ ہو جائے اور حکومتوں کا دخل اس سے ہٹا دیا جائے۔بلکہ مختلف ممالک کے تاجروں اور حکومت کے نمائندوں کے مشورہ سے وقتا فوقتا مختلف ممالک کے لئے اینج کا ایک ایسا طریق مقرر کیا (112)