اسلام کا اقتصادی نظام — Page 6
طاقتوں کوکھو بیٹھتی ہیں اور ایسی تعلیمات جن کو سیکھ کر وہ ترقی کرسکتی ہیں اُن سے محروم رہ جاتی ہیں۔پھر فرماتا ہے وَاللهُ لاَ يُحِبُّ الفَسَادَ یعنی اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا۔اس لئے ایسے بادشاہ اور حکمران خدا تعالیٰ کی نگاہ میں مغضوب ہیں اور وہ اُن کو سخت نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔اس آیت سے یہ نتیجہ نکل آیا کہ اسلام کے نزدیک وہی بادشاہ صحیح معنوں میں بادشاہ کہلا سکتا ہے جو لوگوں کے لئے ہر قسم کا امن مہیا کرے، اُن کی اقتصادی حالت کو درست کرے اور اُن کی جانوں کی حفاظت کرے۔کیا بلحاظ صحت کا خیال رکھنے کے اور کیا بلحاظ اس کے کہ وہ غیر ضروری جنگیں نہ کرے اور اپنے ملک کے افراد کو بلا وجہ مرنے نہ دے۔گویا ہر قسم کے امن اور جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری اسلام کے نزدیک حکومت پر عائد ہوتی ہے اور وہ اس امر کی پابند ہے کہ ملک کی ترقی اور رعایا کی بہبودی کا ہمیشہ خیال رکھے۔حکام کو افراد و اقوام کے درمیان عدل قائم کرنے کی تاکید اسی طرح دوسری جگہ فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللهَ كَانَ سَمِيعًا بیڑا یعنی اے لوگو! اللہ تعالی تم کوحکم دیتا ہے کہ جب تمہیں موقع ملے کہ تم بادشاہت کی امانتیں کسی کے سپر د کرو تو یا درکھو تم یہ امانتیں ہمیشہ اُن لوگوں کے سپرد کیا کرو جو تمہارے نزدیک بادشاہت اور حکومت کے اہل ہوں اور جن کے اندر یہ قابلیت پائی جاتی ہو کہ وہ حکومتی کاموں کو عمدگی سے سرانجام دے سکیں اور پھر اے وہ لوگو! جن کے سپر د ملک کے لوگ بادشاہت کی امانت کریں (جہاں ہم نے ملک 6