اسلام کا اقتصادی نظام — Page 68
نگاہ یہ ہے کہ امراء کی دولت میں غرباء کے حقوق اور اُن کی محنت بھی شامل ہے اس لئے ایک ایسا قاعدہ مقرر کر دیا گیا ہے جس کے مطابق ہر سال زکوۃ کے ذریعہ سے غرباء کا حق امراء سے لے لیا جائے گا۔خمس دوسری وجہ جس سے بعض لوگوں کے ہاتھ میں حد سے زیادہ مال جمع ہو جاتا ہے کانوں کی دریافت ہے۔اسلام نے اس نقص کا علاج یہ کیا کہ اس نے کانوں میں حکومت کا خمس حق مقرر کر دیا ہے۔یہ پانچواں حصہ تو اس مال میں سے ہے جو کان سے نکالا جاتا ہے خواہ اُس پر سال چھوڑ ایک ماہ بھی نہ گزرا ہو۔اس کے علاوہ کانوں کے مالک جو اپنے حصہ کے نفع میں سے پس انداز کریں اور اس پر ایک سال گزر جائے اُس پر ز کوۃ الگ لگے گی اور سال بہ سال لگتی چلی جائے گی۔گویا اس طرح حکومت کانوں میں بھی حصہ دار ہو جاتی ہے اور کانوں کے مالک جو رو پید اپنے حصہ میں سے بچاتے ہیں اُن سے بھی ہر سال غرباء کی ترقی کے لئے ایک مقررہ ٹیکس وصول کیا جائے گا۔جب بھی کسی کے جمع کردہ مال پر ایک سال گزر جائے گا حکومت کے افراد اس کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ لاؤ جی غرباء کا حق ہمیں دے دو۔طوعی صدقہ تیسرے اسلام نے طوعی صدقہ رکھا ہے۔چنانچہ اسلام کا حکم ہے کہ ہر شخص کو صدقہ و خیرات کے طور پر یتیموں ،غریبوں اور مسکینوں کی خبر گیری اور اُن کی پرورش کے لئے کچھ نہ کچھ مال ہمیشہ خرچ کرتے رہنا چاہئے۔یہ حکم بھی ایسا ہے کہ اس کی وجہ سے کسی شخص کے پاس حد سے زیادہ دولت جمع نہیں رہ سکتی۔68